پاکستان کے ’ہائی رسک‘ اضلاع میں پولیو مہم کا آغاز

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں مزید ایک ہزار خواتین کو بھی تعینات کیا گیا ہے

پاکستان کے 83 ’ہائی رسک اضلاع‘ میں سوموار سے تین روزہ انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔

کراچی میں موجود انسدِاد پولیو کے لیے بنائے گئے ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے سندھ کے رابطہ کار عثمان چاچڑ کا کہنا ہے کہ ’کراچی پورے کا پورا ہائی رسک ہے۔ جبکہ اندرون سندھ کے 14 اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیو کا خطرہ شدید ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عثمان چاچڑ نے بتایا کہ یہ تین روزہ مہم ہے جس میں صرف کراچی کے لیے چھ ہزار ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہر ٹیم میں دو افراد ہوتے ہیں لیکن ہائی رسک علاقوں میں ایسی ایک ہزار اور خواتین کو بھی تعینات کیا گیا ہے جو مستقل بنیادوں پر کام کرتی ہیں۔

عثمان چاچڑ کے مطابق کسی بھی علاقے کو پولیو کے لیے ہائی رسک قرار دیے جانے کا مطلب ہے کہ پہلے بھی وہاں پولیو کے کیس سامنے آ چکے ہیں یا وہاں آبادی تیزی سے آتی جاتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے علاقے جہاں والدین اپنے بچوں کوویکسین پلانے سے انکاری ہوں یا بچے گھر پر موجود نہ ہوں ایسے علاقوں کو بھی ہائی رسک قرار دیا جاتا ہے۔

عثمان چاچڑ کا کہنا ہے کہ ہر مہم میں کراچی میں کم سے کم 22 ہزار بچے ایسے ہوتے ہیں جو قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔

انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس میں عملے کی غلطی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کراچی میں 2016 کا پہلا پولیو کیس سامنے آیا ہے جو اپنی نوعیت کا انوکھا کیس تھا۔ اس کیس میں بچے کو نو بار انسدادِ پولیو کے قطرے پلائے جا چکے تھے۔ ایسا کیوں ہوا؟

اس کے جواب میں عثمان چاچڑ کا کہنا ہے کہ’ لوگ جعلی فارم بھر دیتے ہیں۔ پانی کے نمونوں کے بارے میں غلط معلومات بھی لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انسدادِ پولیو کے لیے کام کرنے والوں کی بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو بچوں کو ناکارہ ویکسین پلا دیتی ہے۔ پولیو ویکسین کو کسی ٹھنڈی جگہ پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ گرم ہو کر وہ اپنا رنگ تبدیل کر دیتی ہے جس کے بعد اگر اسے بچے کو پلا دیا جائے تو اس کا نقصان نہیں ہوتا مگر فائدہ بھی نہیں ہوتا۔‘

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو کی بیماری ایسے بچوں پر زیادہ تیزی سے حملہ کرتی ہے جن میں قوت مدافعت کی کمی ہو۔

کراچی میں کام کرنے والے ڈاکٹر اقبال میمن بچوں کےمعالج ہیں اور انسدادِ پولیو کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’پاکستان میں بچوں میں کم ہوتی ہوئی قوت مدافعت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ بچوں کو پولیو کی ویکسین کے کم سے کم 15 قطرے پلائے جانے چاہییں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بات تین چار قطروں سے بہت آگے جا چکی ہے اور کئی علاقوں میں بچوں کو قطروں کے ساتھ ساتھ انجیکشن کی بھی ضرورت ہے ۔ تاہم اس کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ویکیسنیشن کی ضرورت ہو گی ۔ ساتھ ہی ایسا تربیت یافتہ عملہ درکار ہے جو بچوں کو انجیکشن لگا سکے۔‘

اسی بارے میں