دولت اسلامیہ کے پاکستان میں وجود سے انکار نہیں: نثار

Image caption پاکستان میں کئی خواتین کا تعلق دولت اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کے وجود سے انکار نہیں ہے مگر اس تنظیم کی قیادت پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

منگل کے روز ٹیکسلا میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کی تنظیمی قیادت مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ہے جہاں پر یہ تنظیم اپنی نقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ’پاکستان میں کام کرنے والی بہت سی کالعدم شدت پسند تنظیموں نے دولت اسلامیہ کی فرنچائز کھول رکھی ہیں جو ملک میں ہونے والے کسی بھی دہشت گرد واقعہ کی فوری ذمہ داری قبول کرلیتی ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ کراچی اور صوبہ پنجاب کے شہروں ڈسکہ اور سیالکوٹ سے حال ہی میں گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق دولت اسلامیہ سے نہیں بلکہ مختلف کالعدم تنظیموں سے تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کی قیادت مسلمانوں کے جس فرقے کی نمائندگی کر رہی ہے اس کا وجود پاکستان میں نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں 45 ایسی کالعدم تنظیمیں ہیں جو کبھی ختم ہوجاتی ہیں اور پھر کچھ عرصے کے بعد دوبارہ سر اُٹھا لیتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کالعدم تنظیموں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موثر کارروائی کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کالعدم تنظیموں کا نام لینا اور اُنھیں میڈیا پر کوریج دینا ان تنظیموں کو اہمیت دینے کے مترادف ہے۔

بھارتی شہر پھٹان کوٹ ائربیس پر حملے سے متعلق چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم اپنا کام مکمل کررہی ہے اور جلد ہی پاکستانی وزارت خارجہ بھارتی حکومت سے اس تحقیقاتی ٹیم کو جائے حادثہ تک رسائی کے بارے میں درخواست دے گی۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے سوال کے جواب پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ آرمی چیف کا ذاتی فیصلہ ہے اور اس بارے میں کچھ بات کرنا قبل از وقت ہے۔

اسی بارے میں