’نہیں جانتے کہ اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کا کردار کیا ہوگا‘

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشن

سرتاج عزیز نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان نے ابھی تک اس اتحاد کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے

پاکستان کے خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان ابھی تک دہشت گردی کے خلافسعودی عرب کے زیر کمان بننے والے 34 مسلم ملکوں کے فوجی اتحادکا باقاعدہ حصہ نہیں بنا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے ابھی تک اس اتحاد کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی اسے اس اتحاد میں اپنے کردار کے بارے میں علم ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ اس اتحاد سے متعلق معاہدہ طے پانے کے بعد ہی اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ اس میں پاکستان کا کیا کردار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس اسلامی اتحاد سے متعلق ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے گا

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بارے میں اعلیٰ قیادت کی سطح پر مشاورت جاری ہے جبکہ اس اتحاد کے بارے میں سعودی عرب سے مزید تفصیلات کا بھی انتظار ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس اسلامی اتحاد کے بارے میں کہا تھا کہ پاکستان اس اتحاد کا حصہ ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ 34 اسلامی ملکوں کا یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

پاکستان کی افواج دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں موجود ہیں: سرتاج عزیز

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ایسی تمام کاوشوں کی حمایت کرتا ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہوں۔

خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ اسلامی ممالک کے اس اتحاد کے اجلاس کے دوران ایران اور عراق کو شامل نہ کیے جانے کے معاملے پر بھی غور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 34 اسلامی ملکوں کے اس اتحاد میں ایران، شام اور عراق کو شامل نہ کیے جانے پر ان ملکوں کی قیادت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ سمیت دیگر ملکوں کی کاوشوں کی حمایت کرتا ہے۔

سعودی عرب میں 20اسلامی ملکوں کی جنگی مشقوں میں پاکستان کی شمولیت کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں موجود ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی مسلح افواج کے 1200سے زائد اہلکار اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں جو سعودی افواج کی استعدادکار بڑھانے کے لیے اُن کو تربیت دے رہے ہیں۔