سندھ میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات پر بھی حکم امتناع

سپریم کورٹ نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے بعد میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات پر بھی حکم امتناعی جاری کر دیا ہے، جبکہ ان انتخابات کے طریقہ کار سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کی صوبائی حکومت کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

سندھ حکومت نے ان انتخابات میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب میں شو آف ہینڈ کے ذریعے رائے شماری کا بل پاس کیا تھا جسے حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اس طریقہ کار کو کالعدم قرار دیتے ہوئے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کروانے کا حکم دیا تھا تاہم صوبائی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے صوبائی حکومت کی اس درخواست کی سماعت کی۔

سندھ حکومت کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ عدالت عالیہ کے اس حکم کو کالعدم قرار دے جس پر بینچ کے سربراہ نے سندھ حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُنھیں خفیہ رائے شماری کروانے میں کیا قباحت ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار میں سندھ حکومت کی کوئی بدنیتی شامل نہیں ہے۔

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخابات کروانا سندھ حکومت کا بلاجواز قدم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے طریقہ کار کے بارے میں ابھی تک سیاسی جماعتوں میں اتفاق نہیں ہو پا رہا۔

بینبچ میں شامل جسٹس عمر عطا بندیال نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو شفاف انداز میں اپنا کام قانون کے مطابق کرنے دیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو تفصیل سے سننا چاہتی ہے۔ سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جائے تاہم سپریم کورٹ نے یہ استدعامسترد کر دی اور اس درخواست کی سماعت تین مارچ تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں