پاکستان کا پھانسیاں دینے والے ممالک میں تیسرا نمبر

بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس پاکستان میں 324 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا جن میں زیادہ تر ایسے مجرم شامل تھے جن کا دہشتگردی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔

اتنی بڑی تعداد میں پھانسیوں کی وجہ سے پاکستان سے سب سے زیادہ پھانسیاں دینے والے ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی اس رپورٹ کے مطابق پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے 351 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا اور ان میں صرف 39 افراد ایسے تھے جو دہشت گردی میں ملوث تھے یا ان کا دہشتگرد گروہوں سے تعلق تھا۔

پاکستان میں سنہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پھانسیوں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹا لی گئی تھی۔ اس حملے میں134 سکول کے بچوں سمیت 153 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عالمی تنظیم ’رپریو‘ اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی رپورٹ میں کہاگیا کہ چین اور ایران کے بعد پاکستان ایک سال میں 324 افراد کو پھانسیاں دے کر تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ذہنی مریض، کم عمر مجرم اور ایسے قیدی جن پر تشدد کیا گیا یا انھیں مکمل طور پر انصاف فراہم نہیں کیا گیا پھانسی پانے والوں میں شامل تھے۔

عالمی تنظیم رپریو کی ڈائریکٹر مایا فوا نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

روئٹرز کے مطابق پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

حکومت نے ابتدا میں کہا تھا کہ پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی صرف دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کے لیے اٹھائی جا رہی ہے لیکن بعد میں دوسرے جرائم کے مرتکب افراد کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا۔

بڑی تعداد میں لوگوں کو پھانسیاں دینے پر عالمی سطح پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا لیکن پاکستان کے اندر بڑی حد تک اس کی پذیرائی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں