شام جانے والی خنسہ کو کس نے ورغلایا؟

Image caption پاکستان میں حکومتی سطح پر دولتِ اسلامیہ کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا ہے

13 سالہ خنسہ لاہور کے ایک سکول میں آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی۔ وہ ایک عام سی بچی تھی۔ کچھ حساس کچھ ضدی، پر ماں کی فرماں بردار۔ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے خنسہ ماں کی آنکھوں کا تارا تھی۔

خنسہ کی ابتدائی پرورش اپنے ددھیال میں ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنی ماں کے ساتھ ننھیال منتقل ہوئی لیکن اپنی دادی اور پھوپھی کے خاندان سے اس کی محبت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

اور پھر یہی محبت ناسمجھ خنسہ کی زندگی میں ایک ایسا طوفان لائی کہ بچپن بھی بھولا اورگڑیا بھی چھوٹی۔ وہ ماں کی شفقت سے محروم ہوئی اور بہن بھائیوں کے ساتھ سے بھی۔

چھ ماہ پہلے ان کی دادی اسے ضد کر کے اپنے ساتھ لے گئیں اور پھر خبریں منظرعام پر آئیں کہ خنسہ داعش میں شمولیت کے لیے فرحانہ نامی خاتون کے ساتھ شام جا چکی ہے۔

یہ کہانی سناتے ہوئے خنسہ کی والدہ کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں۔ اور کبھی تو شدت غم سے ان کی ہچکی بندھی جا رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ خنسہ کی پھوپھی ارشاد بی بی 2014 کے اوائل میں اپنے دو بیٹوں اور بہو کے ساتھ اچانک شام منتقل ہوگئی تھیں۔

خنسہ کی والدہ کے بقول بچی کے لاپتہ ہونے کے دو روز بعد شام سے اس کی پھوپھو کے بیٹے نے لاہور میں اپنی بہن کو یہ اطلاع دی تھی کہ خنسہ بخیریت ان کے پاس پہنچ چکی ہے۔

’مجھے تو کچھ معلوم نہیں شام کیا ہے اور کہاں ہے۔ میرا ان سے جھگڑا تھا، اس لیے میں نے کبھی دلچسپی نہیں لی۔ پر خنسہ مہینے میں ایک دو بار اپنی دادی اور پھوپھی کی بیٹی عمارہ سے ملنے جاتی تھی، جہاں وہ انٹرنیٹ پر شام میں اپنی پھوپھی ارشاد سے بات کرتی تھی۔ بس وہیں اس کا دماغ خراب کیا گیا۔‘

خنسہ اپنی پھوپھی ارشاد کی سہیلی فرحانہ کے ساتھ شام گئی ہے۔ کیا وہ اپنی مرضی سے گئی؟ کیا اسے زبردستی لے جایا گیا؟ یا اسے مذہب کے نام پر ورغلایا گیا؟

خنسہ کی والد کہتی ہیں کہ ’میری بچی کی عمر 13 سال تھی۔ اس عمر میں بچوں کو سمجھ ہی کیا ہوتی ہے۔ ہاں خنسہ نے مجھ سے ایک دومرتبہ بحث کی کہ بیعت کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے ماں باپ کی اجازت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ میں اس سے پوچھتی تھی بیعت کیا ہوتی ہے؟‘

خنسہ کی ماں کہتی ہیں مجھے تو خود پتہ نہیں کہ بیعت کیا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ پر اس ناسمجھ بچی کا دماغ اس طرح سے خراب کیا گیا کہ وہ حقیقتاً ہی شام چلی گئی۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کو طویل عرصے تک جھٹلایا جاتا رہا ہے۔

ستمبر میں لاہور کی تین خواتین کے شام جانے کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد بھی اس کی تردید کی جاتی رہی اور پھر پنجاب کے وزیرقانون راناثنا اللہ نے تصدیق کی کہ پاکستان سے سو کے قریب افراد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ شمولیت کے لیے شام جا چکے ہیں۔

اب قومی اسبملی کی قائمہ کمیٹی میں پاکستان کی سول اینٹلی جنس ایجنسی آئی بی کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا نیٹ ورک موجود ہے اور ملک کی بعض مذہبی جماعتیں بھی اس تنظیم کی سوچ کی حمایت کرتی ہیں۔ دولتِ اسلامیہ سے تعلقات کے شبہے میں مختلف افراد کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

تاہم خنسہ، ارشاد بی بی، فرحانہ اور بشری چیمہ کو شام جانے پر کس نے آمادہ کیا، کس نے انھیں مالی وسائل فراہم کیے، کس نے انھیں سفری دستاویزات بنوانے اور شام جانے کا روٹ منتخب کرنے میں مدد دی، پاکستان میں ان کے سہولت کار کون تھے، شام میں وہ کس کے پاس گئیں اور وہاں جا کر ان کی سرگرمیاں کیا ہیں؟ اس سلسلے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

خنسہ کی ماں کو ان میں سے کسی بات سے کوئی غرض نہیں۔ وہ فکرمند ہیں تو اپنی بیٹی کے لیے۔

وہ کہتی ہیں: ’پتہ نہیں میری بچی کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ پتہ نہیں وہ اس کے ساتھ کیا کریں گے۔ کہیں وہ زبردستی اس کا نکاح نہ کر دیں۔ کل کو وہ ماں بن کے میرے دروازے پر آئی تو میں اسے قبول نہیں کروں گی۔‘

اسی بارے میں