’زبان کو مذہب سےجوڑنا زبان سے ناانصافی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption سید محمد انور ہندی اور اردو ایک ہی زبان کے دو الگ رسم الخط برصغیر پاک و ہند کا مشترکہ ورثہ ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مادری زبانوں کے دن کی مناسبت سے دو روزہ میلے کے پہلے روز علاقائی زبانوں کے حوالے سے مباحث اور تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

سنیچر کو لوک ورثہ اینڈ نیشنل ہیریٹیج میوزیم میں منعقدہ اس میلے میں ایک ایسی کتاب کی تعارفی تقریب بھی منعقد ہوئی جو فن کا ایک منفرد نمونہ تھی۔

اس کتاب میں سید محمد انور کے تخلیق کردہ 60 سے زائد فن پاروں کی تصاویر شامل ہیں لیکن اہم بات یہ ہے خطاطی کے یہ نمونے ہندی دیوناگری اور اردو کے نستعلیق رسم الخط کو ملا کر مصور کیے ہیں۔

’سامروپ رچنا۔ کیلی گرافک ایکسپریشن آف اپنی بولی‘ عنوان کے اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید محمد انور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔

سید محمد انور ہندی اردو کو ’اپنی بولی‘ کہتے ہیں اور ان کے مطابق ایک ہی زبان کے دو الگ رسم الخط برصغیر پاک و ہند کا مشترکہ ثقافتی اور لسانی ورثہ ہیں۔

کتاب کے مصنف اپنی تخلیق کو پاکستان میں ہندی کے بارے میں تعصب کے خاتمے اور پاکستان بھارت کے دومیان دوریاں کم کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں۔

سید محمد انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کتاب کے عنوان کے حوالے سے بتایا کہ ’سامروپ‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے مطابقت جبکہ ڈیزائن کو ہندی میں رچنا کہا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption کسی بھی زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑنا اس زبان کے ساتھ اس کے بولنے والوں کے ساتھ اور اس خطے کے ساتھ ناانصافی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ایسے ڈیزائن جو آپس میں مطابقت رکھتے ہوں انھیں سامروپ رچنا کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں مطابقت اور یکسانیت پائی جاتی اور ان دونوں زبانوں کی ایک ساتھ خطاطی کرنا دونوں زبانوں میں مطابقت اور یکسانیت ظاہر کرنے کی ایک کوشش ہے۔

پاکستان میں رہتے ہوئے ہندی سیکھنے کے مرحلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ مطہر یونس کی ابتدائی زندگی تقسیم ہند سے قبل بھارت کے شہر فریدآباد میں گزری تھی جہاں انھوں نے سکول میں ہندی لکھنا سیکھی تھی اور مجھے اپنی والدہ سے ہندی سیکھنے کا موقع ملا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں جب وہ سکول میں پڑھتے تھے توگرمیوں کی چھٹیوں کے دوران مجھے گھر سے باہر کھیلنے کودنے سے منع کیا جاتا تھا۔ ’ایسے ہی ایک روز میری والدہ نے مجھے اپنی اپنے قریب بٹھا کر دیوناگری رسم الخط میں میرا نام لکھا اور کہا میں بھی ایسے ہی لکھوں۔‘

سید محمد انور بتاتے ہیں کہ اس روز مجھے حیرت ہوئی کہ ایک ہی زبان دو رسم الخط میں لکھی جا سکتی ہے اور اسی طرح ہندی لکھنے کی مشق جاری رہی۔

سید محمد انور کے مطابق کسی بھی زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑنا اس زبان کے ساتھ، اس کے بولنے والوں کے ساتھ اور اس خطے کے ساتھ ناانصافی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عام طور ہر ہندی کو ہندوؤں یا بھارت کے نام جوڑ کر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ زبان کا مذہب سے تعلق نہیں ہے۔

’اگر پاکستان اور بھارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہندی اور اردو دونوں اس خطے کی زبانیں ہیں اور اگر دونوں سیکھنے سے دونوں ممالک کے درمیان دوریوں میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے اور ہمیں دیوناگری زبان میں لکھے بے بہا ادب تک بھی رسائی حاصل ہوسکتی ہے جسے اردو رسم الخط میں ڈھالا جاسکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

’اگر انگریزی لکھتے اور بولتے ہوئے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تو دیوناگری رسم الخط کو بھی تعصب کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔‘

سید محمد انور بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فن خطاطی میں بھی انھی موضوعات کا احاطہ کیا ہے جو اس خطے کے مشترکہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہندی اور اردو میں جو لفظ ایک ساتھ لکھے ان کی تصاویر بھی خطاطی کی صورت میں مصور کی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان میں ہندی کے ماضی، حال یا مستقبل کی فکر نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ ایک زبان کو رسم الخط کی بنیاد پر ہندو مسلم میں تقسیم کیا گیا اس لیے زیادہ اہم ہے کہ زبان کے رسم الخط کو مذہب یا کسی ملک کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔ ہندی یا اردو کے حوالے سے تعصب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔