’فوجی عدالتوں سے منصفانہ عدالتی کارروائی پر خدشات بڑھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تنظیم کے مطابق پاکستان میں فوجی عدالتوں نے اب تک کم سے کم 27 لوگوں کو پھانسی جبکہ چار کو عمر قید سنائی ہے

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام اور سزائے موت سے پابندی اٹھانے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں دسمبر 2014 میں پشاور میں سکول پر حملے کے بعد پاکستان میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ ان فوجی عدالتوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انتہاپسندی میں ملوث افراد کو سزا سنا سکیں جس سے منصفانہ عدالتی کارروائی کے حصول سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق پاکستان میں فوجی عدالتوں نے اب تک کم سے کم 27 لوگوں کو پھانسی جبکہ چار کو عمر قید سنائی ہے مگر ان تمام ملزمان کے خلاف کی گئی عدالتی کارروائیوں سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان سے سکیورٹی اداروں کی جانب سے متنازع حراستوں کو قانونی جواز مل گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان میں تین سو سے زیادہ افراد کو پھانسی دی گئی ہے جن میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہے جن پر قتل یا جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہوا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سلسلے میں رپورٹ میں فیصل محمود اور آفتاب بہادر کا ذکر کیا ہے اور تنظیم کے مطابق دونوں کے وکلا کی جانب سے ان کی کمر عمری کے شواہد پیش کرنے کے باوجود انھیں پھانسی دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں کراچی کی صورت حال پر کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن کے دوران مشتبہ افراد کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے

ایمنسٹی کے مطابق حکومتِ پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قومی سطح پر کمیشن تو تشکیل دیا ہے مگر اسے خفیہ اداروں پر لگنے والے انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی تحقیقات نہیں کرنے دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی اعداد و شمار کے مطابق قومی ایکشن پلان کے تحت نفرت پھیلانے کے الزام میں نو ہزار سے زیادہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے تاہم بعض پبلشرز اور دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ پولیس انھیں ناجائز تنگ کر رہی ہے اور انھیں دباؤ میں آ کر پکڑا گیا ہے۔

رپورٹ میں شمالی وزیرِستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ فوج نے اس آپریشن کے دوران تین ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت اور 21 ہزار سے زیادہ افراد کی گرفتاری کے دعوے کیے ہیں لیکن اس آپریشن کی شفافیت، معلومات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے اور ماضی میں ایسے آپریشنز میں اختیار کا ناجائز استعمال وہ وجوہات ہیں جن سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ میں انسانی حقوق کے کارکنان سے متعلق بھی بات کی گئی ہے اور ایمنسٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اس کی مثال دیتے ہوئے تنظیم نے کہا ہے کہ گذشتہ برس مارچ میں بلوچ کارکنان کو امریکہ جانے سے روکا گیا۔ ان کارکنان کے دورے کا مقصد سندھ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگی کے بیشتر واقعات میں بعدازاں گولیوں سے چھلنی یا مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

اس سلسلے میں قوم پرست سندھی رہنما راجہ داہر کی مثال دی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ ’گذشتہ برس جون میں سکیورٹی فورسز نے پابندی کا شکار سندھی قومی پارٹی کے رکن راجہ داہر کے گھر پر چھاپہ مارا اور انھیں حراست میں لے لیا جس کے ایک ماہ بعد ان کی مسخ شدہ لاش جامشورہ سے ملی۔‘

رپورٹ میں کراچی کی صورت حال پر کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کراچی میں جاری رینجرز کے آپریشن کے دوران مشتبہ افراد کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعض اراکین کو غیر قانی حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ بعض کو ہلاک کر دیا گیا۔

مزید براں ادارے نے پاکستان سے متعلق کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور انتہاپسندوں کے خوف کے پیش نظر بعض پاکستانی صحافی اور میڈیا خود ساختہ سینسرشپ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیمرا نے سعودی عرب میں جج کے دوران بھگدڑ میں دو ہزار حاجیوں کی ہلاکت کے بعد میڈیا کو سعودی عرب کے خلاف بات کرنے سے خبردار کیا تھا ۔

اسی بارے میں