’میں میگھواڑ سہی، بیٹا تو سردار کا بیٹا کہلائے گا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر کے ہیڈ کوارٹر مٹھی کے رہائشی جگجیت سنگھ پاکستان میں بسنے والے ان دلت ہندوؤں میں سے ہیں جو ملک میں بہتر سماجی حیثیت حاصل کرنے کے لیے اب اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

سنہ 2005 تک ہاسا نند کہلائے جانے والے جگجیت سنگھ نے اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت خاندانی مذہب ترک کر کے سکھ برادری میں شمولیت اختیار کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں علاقہ چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا اور یہاں بغاوت کی ایک مثال بن کر رہنا چاہتا ہوں۔‘

پانچ سال پہلے برہمن ہندوؤں کے ہاتھوں قاتلانہ حملے میں زندہ بچنے والے جگجیت سنگھ کا دعویٰ ہے کہ مذہب کی تبدیلی نے انھیں ذہنی سکون میسر کیا ہے۔

’میرے بچے اس بات پر خوش ہیں کہ انھیں آئندہ زندگی میں وہ لعن طعن برداشت نہیں کرنا پڑے گی جو میں نے کی۔ مجھے تو لوگ میگھواڑ ہی کہیں گے لیکن میرا بیٹا تو سردار کا بیٹا کہلائے گا۔‘

جگجیت سنگھ ، سماجی برابری اور حقوق کے حصول کے لیے بغاوت کا علم بلند کرنے والے واحد شخص نہیں۔

مٹھی میں دلت برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ملجی راٹھور کہتے ہیں کہ تھرپارکر میں رہنے والے دلت افراد ، ہندؤوں کی اونچی ذات والے لوگوں کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب دلت برادری ، اپنا نام اپنی شناخت اور یہاں تک کہ اپنا مذہب بھی تبدیل کرنے پر مجبور ہے۔

ان کے مطابق ’جنوبی ایشیا کی لوئر کاسٹ مسلم کمیونٹی میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو یہیں سے مذہب بدل کرگئے ہیں ۔ وہ لوگ یہی سوچتے ہیں کہ ہم ایک مندر میں اکٹھے عبادت نہیں کر سکتے ۔ ایک برتن میں کھا نہیں سکتے ، تو پھر جانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔‘

صوبہ سندھ کے ریگستانی حصے تھر پارکر میں آج بھی دوسری بڑی آبادی ہندوؤں کی ہے جس کا تقریباً 80 فیصد حصہ شیڈول کاسٹ کے طو پر پہچانا جاتا ہے جنہیں عرف عام میں دلت بھی کہتے ہیں۔

Image caption سنہ 2005 تک ہاسا نند کہلائے جانے والے جگجیت سنگھ نے اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت خاندانی مذہب ترک کر کے سکھ برادری میں شمولیت اختیار کی ہے

1956 میں پاکستان کا آئین بناتے ہوئے ہندو مذہب کی نچلی سمجھی جانے والی تمام ذاتوں کو اکٹھا کر کے شیڈول کاسٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اس شیڈول کاسٹ میں میگھواڑ ، بھیل، کوہلی سمیت کل ملا کر 43 ذاتیں ایسی ہیں جن سے تعلق رکھنے والے افراد کی آبادی اب دلت کارکنوں کے مطابق 80 لاکھ ہو چکی ہے۔

یہ لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں مختلف ناموں کے ساتھ رہتے ہیں۔

پاکستان ہندو پنچایت کے سیکرٹری جنرل روی داوانی کہتے ہیں کہ ’دلت برادری کو ہندوؤں میں گنا جاتا ہے لہٰذا مسئلہ تو نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان میں ہندو اقلیت کے حقوق کی بات کرنا ایسے ہی لوگوں کی بات کرنے کے برابر ہے۔‘

جنوبی ایشیا میں دلت برادری کے دفاع کے لیے کام کرنے والے، پاکستانی صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر سونو کھنگریانی لیکن تصویر کا دوسرا رخ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہندو اقلیت کو ملنے والے حقوق تو برہمن لے جاتے ہیں۔

’اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ ہمیں اس ملک میں مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ برہمنوں سے ہے اور ہمارے لوگ عدم تحفظ کی وجہ سے اپنی ذات ظاہر نہیں کرتے، اپنی ثقافت کے نزدیک نہیں جاتے۔ ہم چاہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب میں بیٹھے ہیں اس وقت اپنی پہچان کروائیں۔‘

پاکستانی حکومت کی طرف سے کئی دلت افراد کو صدارتی ایوارڈز دیے جانے کے باوجود ان کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آتیں۔

صوبہ سندھ کی بڑھتی ہوئی دلت نوجوان نسل میں اس لاعلمی کو محسوس کرنے والے سومجی ڈھارانی نے تھر کے ایسے 108 افراد کی کہانیاں ایک کتاب کی شکل میں شائع کی ہیں جو امتیازی سلوک اور دیگر مشکلات کے باوجود اپنے اپنے شعبوں میں کامیابیوں کی بلندیوں تک پہنچے ہیں۔

یہ کتاب سندھی میں ہے جسے اب اردو اور انگریزی میں شائع کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے اور سومجی ڈھارانی کے مطابق انہوں نے اپنی تحریر میں یہی بات واضح کی ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔

Image caption سومجی ڈھارانی کے مطابق انہوں نے اپنی تحریر میں یہی بات واضح کی ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں

’ہم دلت نہیں اور نا ہی شیڈول کاسٹ ہیں۔ ہم میگھواڑ ہیں۔ ہماری کمیونٹی میں ایک سے ایک ڈاکٹر ، انجینیئر ، آرٹسٹ، گائک اور ایکٹیوسٹ موجود ہیں ۔ لوگ صدارتی ایوارڈ لے چکے ہیں۔ ہم پڑھے لکھے ہیں۔ ہم کیوں خود کو شودر کہلوائیں اور اپنے آپ کو نیچ سمجھیں۔‘

حکومت پاکستان نے شیڈول کاسٹ کے لیے چھ فیصد ملازمت کا کوٹہ مقرر کر رکھا ہے لیکن دلت کارکنوں کے مطابق اگر حکومت نے ان کی طرف توجہ نہیں دی تو ہندو مذہب میں موجود طبقاتی تقسیم ان کی آنے والی نسلوں کو بھی دباؤ میں رکھے گی۔

لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی شناخت سے ان کے مسائل حل ہو پائیں گے یا نہیں۔

اسی بارے میں