’وزیر اعظم نیب کے معاملات میں مداخلت بند کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دائر درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ عدالت وزیراعظم کو یہ حکم دے کہ وہ نیب کے معاملات میں مداخلت بند کریں

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) پر تنقید کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت اور نیب کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

یہ نوٹس لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے پاکستان تحریک انصاف کے لائیرز ونگ کے گوہر نواز سندھو کی درخواست پر جاری کیے۔

گذشتہ ہفتے دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایک عوامی اجتماع میں وزیراعظم کی قومی ادارے پر تنقید دراصل ایک وارننگ تھی جو وزیراعظم نے احتساب بیورو پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے لیے جاری کی۔

درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نے نیب پر تنقید کر کے ادارے کی طرف سے کی جانے والی میگا کرپشن کے کئی مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے جو کہ کچھ خاص مقدمات کی تحقیقات سے نیب کو روکنے کے مترادف ہے۔

گوہر نواز سندھو نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ عدالت وزیراعظم کو یہ حکم دے کہ وہ نیب کے معاملات میں مداخلت بند کریں۔ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے جسے کرپشن میں ملوث کسی بھی ادارے یا شخص سے تحقیقات کا حق حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office
Image caption وزیراعظم نواز شریف نے16 فروری کو بہاولپور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران قومی احتساب بیورو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور نیب حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ تین ہفتے کے اندر ان نوٹسز پر اپنے جواب داخل کریں۔

تاہم درخواست کے لیے آئندہ سماعت کے لیے تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے 16 فروری کو بہاولپور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران قومی احتساب بیورو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ نیب کی کارروائیاں ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں اسے اپنا کام زیادہ ذمہ داری سے کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے نیب کو یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ اگر انھوں نے اپنے معاملات درست نہ کیے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعظم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں