پشاور اور ہنگو میں پولیو کے دو نئے مریض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں رواں ماہ ہی 83 ’ہائی رسک اضلاع‘ میں تین روزہ انسدادِ پولیو مہم منعقد ہوئی تھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور ضلع ہنگو میں دو شیرخوار بچوں کے پولیو کے مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان مریضوں کے سامنے آنے کے بعد صوبے میں رواں برس نئے مریضوں کو تعداد تین جبکہ ملک بھر میں پانچ تک پہنچ گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جن دو بچوں میں پولیو کا مرض پایا گیا ہے ان میں سے ایک کے والدین نے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا جبکہ دوسرا ماضی میں یہ ویکسین پیتا رہا ہے۔

پشاور میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچے کا نام جریر بتایا گیا ہے اور اس کی عمر 21 ماہ ہے۔

اس بچے کا تعلق حیدر کالونی اخون آباد سے ہے اور اس کے والدین نے اسے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

ہنگو میں پولیو سے متاثرہ بچی نورین بی بی کی عمر سات ماہ بتائی گئی ہے جو کہ محلہ موسیٰ جان گنجیانو کلے کی رہائشی ہے۔

اس بچی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ماضی میں پولیو سے تحفظ کی ویکسین باقاعدگی سے پیتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کراچی میں بھی ایسے ایک بچے کے پولیو سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا تھا جو ماضی میں نو مرتبہ ویکسین پی چکا تھا۔

پاکستان میں رواں ماہ ہی 83 ’ہائی رسک اضلاع‘ میں تین روزہ انسدادِ پولیو مہم منعقد ہوئی تھی۔

کسی بھی علاقے کو پولیو کے لیے ہائی رسک قرار دیے جانے کا مطلب ہے کہ پہلے بھی وہاں پولیو کے کیس سامنے آ چکے ہیں یا وہاں آبادی تیزی سے آتی جاتی رہتی ہے۔

اس کے علاوہ ایسے علاقے جہاں والدین اپنے بچوں کوویکسین پلانے سے انکاری ہوں یا بچے گھر پر موجود نہ ہوں ایسے علاقوں کو بھی ہائی رسک قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے پولیو کو قومی ایمرجنسی قرار دیا ہے حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں میں ایسے ایمرجنسی سنٹرز قائم کیے گئے ہیں جو انسداد پولیو کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں