موسمِ سرما میں نانگا پربت سر کرنے کا ریکارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نانگا پربت اب تک سردیوں میں سر نہیں کی گئی ہے

پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق تین کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم نے سردیوں کے موسم میں پہلی مرتبہ 8125 میٹر بلند نانگا پربت کی چوٹی سر کر لی ہے۔

الپائن کلب کے ترجمان کرار حیدری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ ٹیم جمعے کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجکر 27 منٹ پر چوٹی پر پہنچی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کے ارکان میں سپین کے ایلکس ٹکسیکون، اٹلی کے سائمونی مورو اور سکردو سے تعلق رکھنے والی پاکستانی علی سدپارہ شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اِسی ٹیم کے ایک اور ممبر اٹلی کے تمارا لونگر چوٹی سر کرنے والی ٹیم سے ذرا نیچے ہی رُک گئے تھے۔

ترجمان کے مطابق سائمونی مورو، تمارا لونگر اور ایلکس ٹکسیکون چھ سات سال سے نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں اُنہیں اِس سال کامیابی ہوئی ہے۔

ٹیم کے ارکان سے آخری رابطے سے پتہ چلا ہے کہ وہ اب واپسی کے سفر پر ہیں اور وہ کل یعنی سنیچر تک بیس کیمپ پہنچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کرار حیدری نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں اِس چوٹی کا درجہ حرارت عموماً منفی 30 ڈگری ہوتا ہے جبکہ ہوا سو میل فی گھنٹہ کے حساب سے چلتی ہے اور اِس موسم میں وہاں زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایسے میں موسم میں جن لوگوں نے چوٹی سر کی ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ فولادی لوگ ہیں کیونکہ ایسے موسم میں زندہ رہنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔‘

کرار حیدری کے مطابق کوئی بھی چوٹی سر کرلینے کے بعد واپسی کا سفر یعنی پہاڑ اُترنا اور بھی زیادہ دشوار عمل ہوتا ہے۔

’اکثر جو رسی واپسی کے لگائی گئی ہوتی ہے اُس پر برف پڑ جاتی ہے اور وہ نیچے دب جاتی ہے۔‘

خیال رہے کہ نانگا پربت کو اس کی دشوار گزار چڑھائی کی وجہ سے ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ پاکستان کی دوسری اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جبکہ دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں واقع ہیں۔

اسی بارے میں