سکول میں موجود کلاشنکوف سے طالبعلم کی خودکشی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں آرمی پبلک سکول اور پھر چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سکولوں کی سکیورٹی بڑھائی گئی ہے اور اس کے لیے سکول میں چوکیداروں کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ساتویں جماعت کے ایک طالبعلم نے حفاظت کے لیے سکول میں موجود کلاشنکوف سے فائرنگ کر کے خود کشی کر لی ہے۔

داؤد زئی پولیس تھانے کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سلمان ولد جان محمد گل بیلہ کے علاقے میں نجی سکول میں ساتویں جماعت کا طالبعلم تھے اورسنیچر کو سلمان نے سکول میں موجود کلاشنکوف سے خود کشی کر لی ہے۔

سلمان کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق وہ اس وقت تک دم توڑ چکے تھے۔

پولیس کے مطابق جس وقت سلمان نے خود کشی کی اس وقت چوکیدار موجود نہیں تھا اور کلاشنکوف سکول میں ایک طرف پڑی تھی جس سے خود کشی کی گئی ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول اور پھر چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد سکولوں کی سکیورٹی بڑھائی گئی ہے اور اس کے لیے سکول میں چوکیداروں کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے جبکہ نجی سکولوں میں سکیورٹی گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے بھی سرکاری سکولوں میں حفاظتی انتطامات کے طور پر چوکیداروں کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ سرکاری اور نجی سکولوں کے باہر مسلح سکیورٹی گارڈز موجود رہتے ہیں۔

سکولوں کے باہر مسلح سکیورٹی گارڈز کی موجودگی پر اکثر والدین اور بچوں نے یہ سوالات بھی اٹھائے تھے کہ مسلح سکیورٹی گارڈز کی موجودگی میں بچے خوفزدہ رہتے ہیں اور وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے مسلح سکیورٹی گارڈز کو ضروری بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے کے دوران یونیورسٹی کے مسلح گارڈز نے ہی حملہ آوروں کو روکا اور یونیورسٹی کو زیادہ نقصان سے بچانے میں کامیاب رہے۔

اسی بارے میں