’یہ جنگ نیکی اور بدی کی جنگ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب حکام کے مطابق شدت پسند اس علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے

پاکستان کے وزیراعظم محمد نوازشریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نیکی اور بدی کی جنگ ہے جس میں نیکی غالب آئے گی۔

وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائےگا۔‘

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق محمد نواز شریف نے اس عزم کا اظہار ان چار فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کے نام ایک تعزیتی پیغام میں کیا جو گذشتہ روز شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔

دوسری جانب فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شوال میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

نماز جنازہ میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سمیت بڑی تعداد میں دیگر فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔جس کے بعد آرمی چیف نے پشاور میں سی ایم ایچ ہسپتال کا دورہ کیا جہاں انھوں نے زخمیوں سے بھی ملاقات کی۔

اس سے قبل گذشتہ رات نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شوال کے مقام پر حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 19 مسلح شدت پسند اور ایک افسر سمیت چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی شوال کے علاقے میں زمینی کارروائی میں پیش رفت جاری ہے اور سنیچر کو پاک افغان سرحد کے قریب منگروٹی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ اس جھڑپ میں 19 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے ایک افسر سمیت چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب حکام کے مطابق شدت پسند اس علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا۔

اسی بارے میں