’خدا کے کام بھی بہت پراسرار ہوتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی پر ردِ عمل اتنا شدید اور پرزور نہیں رہا جتنا ان کی پھانسی کے فیصلوں کے بعد سامنے آیا تھا۔

تاہم سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار تاثیر نے اپنے ردِ عمل میں لکھا ’ممتاز قادری کو 29 فروری کو پھانسی دی گئی (لیپ کا سال)۔ خدا کے کام بھی بہت پراسرار ہوتے ہیں۔‘

شیرین نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ’کوئی بھی ممتاز قادری کی پھانسی پر خوشی نہیں منا رہا ہے جو کہ ایک قاتل تھا۔ بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔‘

عارفینہ نے ٹویٹ کی کہ ’قادری کو 29 فروری کو پھانسی دینا ایک عقلمندی کا کام ہے ان کی برسی اب چار سال بعد 2020 میں ہی ہو گی۔‘

وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’وزیرِاعظم کی دیوالی کی تقریر سے ملک اسحاق تک اور پھر پنجاب میں خواتین خواتین کے تحفظ کے قانون اور شرمین عبید چنائے کی تعریفوں سے۔ وزیرِاعظم اور وزیرِاعلیٰ پنجاب نے اُن منزلوں پر قدم رکھے ہیں جہاں بہت کم کی ہمت پڑتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ہارون نے ٹویٹ کی کہ ’قادری کے حوالے سے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور غیرت کے نام پر قتل کے قانون اور اقدامات۔ نواز شریف نے ثابت کیا ہے کہ وہ مشرف جیسے بندوق بردار سے زیادہ باہمت ہیں۔‘

عمر فاروق بورانہ نے لکھا ’میرے خیال میں قاری کی پھانسی سے قانون کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔‘

اگر ٹرینڈز کی بات کریں تو ابھی تک ممتاز قادردی یا اُن کے پھانسی کے حوالے سے کوئی بھی ٹرینڈ صفِ اول کے دس ٹرینڈز میں شامل نہیں جو کہ حیران کن ہے۔

اس پر دوسری حیران کُن بات یہ ہے کہ پاکستان میں آسکرز صفِ اول کا ٹرینڈ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ممتاز قادری کے پھانسی کے فیصلے پر آصفہ کی ٹویٹ

مگر اس کے ساتھ ہی پھانسی کے حوالے سے بحث نے از سرِ نو سر اٹھایا ہے جس میں بہت سے اس پھانسی پر تنقید کر رہےہیں۔

اینکر ثنا بچہ نے ٹویٹ کی کہ ’میں پھانسی کی حمایت نہیں کروں گی۔ قادری جیسے بے ضمیر انسانوں کی پھانسی کی بھی نہیں۔ میں خوشی نہیں منا سکتی۔‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے فرحان حسین نے لکھا ’اچانک کٹر لبرل حضرات سزائے موت پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ یہ اب حیران نہیں کرتا مگر اصولی موقف رکھنے والے ان دنوں کیا کریں؟ توہینِ مذہب کے قوانین کی مخالفت کرنا اور دوسری جانب سزائے موت کی حمایت کرنا کھلا تضاد ہے۔‘

اسی بارے میں