مہمند ایجنسی: بم پھٹنے سے دو ہلاک، تین زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ واقعہ تحصیل انبار کے علاقے سنگھڑ میں پیش آیا ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سڑکے کے کنارے نصب بم کے پھٹنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد پاکستان میں امریکی قونصل کے مقامی ملازمین تھے جو انسداد منشیات کے پروگرام سے وابستہ تھے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جان کیری نے کہا کہ ’میں صرف اس کی تصدیق کر سکتا ہے کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے جاری ایک پراجیکٹ کے انسپیکٹر اور ان کے ڈرائیور آئی ای ڈی دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔‘

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خِان کے مطابق یہ واقعہ تحصیل انبار کے علاقے سنگھڑ میں پیش آیا۔ سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ منگل کو دوپہر کے وقت پولیٹکل انتظامیہ کی گاڑی یکہ غنڈ سے انبار کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں سنگھڑ کے مقام پر ایک دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں دو افراد ہلاک اور تحصیلدار سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ اہلکار اس علاقے میں یہ دیکھنےآئے تھے کہ کہیں پوست کی فصل تو کاشت نہیں کی گئی

مقامی ذرائع نے بتایا کہ گاڑی میں انسداد منشیات کے محکمے کے اہلکار پولیٹکل انتظامیہ کے عہدیداروں کے ہمراہ جا رہے تھے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق انسداد منشیات کے محکمے سے بتایا گیا ہے جبکہ تحصیلدار فراموش خان اور خاصہ دار فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ اہلکار اس علاقے میں یہ دیکھنےآئے تھے کہ کہیں پوست کی فصل تو کاشت نہیں کی گئی۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

مہمند ایجنسی میں گذشتہ ماہ سے تشدد کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فروری کے مہینے میں شدت پسندوں نے دو الگ الگ مقامات پر خاصہ دار فورس کے نو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا ۔ اسی طرح سڑک کے کنارے دھماکوں اور ایک شفاخانہ حیوانات کی عمارت کے باہر دھماکے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں