حقوق نسواں ایکٹ نافذ پر پولیس عملدرآمد سے قاصر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مذہبی حلقے نئے قانون پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں

لاہور پولیس نے تحفظ نسواں ایکٹ کے نفاذ کے باوجود شوہر کے خلاف خاتون خانہ پر تشدد کی شکایت پر پرانے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا اور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نئے ایکٹ کے عملی نفاذ کے لیے ابھی کئی اقدامات کی ضرورت ہے۔

لاہور کے علاقے گرین ٹاون کی بسرا بی بی نامی خاتون نے تھانہ گرین ٹاؤن میں درخواست جمع کرائی جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے شوہر اور بچوں کا پیٹ پالتی ہے لیکن اس کا شوہر طیب اسے اکثرتشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

بسرا بی بی کے مطابق سوموار کے روز بھی وہ مزدوری کرکے گھر واپس آئیں اور طیب سے پوچھا کہ اس نے بچوں کو کھانا کیوں نہیں کھلایا، جس پر ملزم طیش میں آگیا اور اس پر تشدد شروع کردیا۔ طیب نے مبینہ طور پر بسرا کو تھپڑ مارے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

مقدمہ درج کرنے کی درخواست میں بسرا بی بی نے استدعا کی ہے کہ اسے شوہر کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

میڈیا سے گفت گو میں بسرا بی بی کا مطالبہ تھا کہ وہ نئے قانون کے تحت اپنے شوہر کے خلاف کارروائی چاہتی ہیں، تاکہ اس کو شوہر کی جانب سے آئے روز تشدد سے نجات مل سکے۔

لیکن پولیس نے طیب کے خلاف تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزام میں مقدمہ تو درج کرلیا لیکن تحفظ نسواں ایکٹ کی بجائے تعزیرات پاکستان کے پرانے قانون کی دفعات 354 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرلیا اور ملزم کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے دستخط اور باقاعدہ قانون بن جانے کے باوجود تاحال وہ نئے قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کرسکتے کیونکہ اس ایکٹ کے عملی نفاذ کے لیے کافی کچھ ابھی کرنا باقی ہے۔ اس لیے تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزام میں معمول کے مطابق مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایس پی فیصل مختار نے بتایا کہ تحفظ نسواں ایکٹ پر گورنر پنجاب نے ابھی سوموار کے روز ہی دستخط کئے ہیں جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون تو بن گیا لیکن اس کے مطابق پولیس براہ راست کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔

فیصل مختار نے بتایا کہ نئے قانون کے مطابق کسی قسم کی پولیس کارروائی سے قبل ان الزامات کی بنیاد پر دی گئی درخواست پہلے ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن کمیٹی کے پاس جائے گی جو ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس کو کارروائی کی سفارش کرسکتی ہے۔

فیصل مختار کے مطابق ابھی تک ڈسٹرکٹ ویمن پروٹیکشن کمیٹی نہیں بنی اور نہ ہی نئے ایکٹ کے تحت کارروائی کے قواعد طے کیے گئے ہیں لیکن جلد ہی تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس نئے ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرسکے گی،

تحفظ نسواں ایکٹ کے تحت تشدد کی شکار خواتین کی شکایت پر شوہر کو دو روز تک کے لیے گھر سے بے دخل بھی کیا جاسکتا ہے اور اسے متاثرہ خاتون سے دور رکھنے کا بھی پابند بنایا جاسکتا ہے۔

ملزم شوہر کی نقل و حمل پر نظر رکھنے کے لیے اسے جی پی آر ایس کڑا بھی پہنایا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ صوبائی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیے جانے والے اس قانون پر مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں