’سرتاج عزیز نے جو کہنا تھا کہہ دیا، مزید کچھ نہیں کہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے طالبان کی قیادت اور ان کے اہلِ خانہ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں بیان پر کہا ہے دفترِ خارجہ سیاسی قیادت کے بیانات پر ردِ عمل نہیں دیتا۔

ترجمان نے کہا ’جو کچھ سرتاج عزیز نے کہا ہم اس پر مزید کچھ نہیں کہیں گے۔آپ کو چیزوں کو صحیح تناظر میں دیکھنا ہوگا‘۔ کئی حلقےدفترِ خارجہ کے ترجمان کے ردِ عمل کو وزیرِ اعظم کے مشیر کے بیان سے فاصلے پیدا کرنے کی کوشش سے تعبیر کر رہے ہیں۔

سرتاج عزیز ان دنوں امریکہ اور پاکستان کے درمیان چھٹے سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔ طالبان کی قیادت اور اہلِ خانہ کی موجودگی کا ذکر انھوں نے یکم مارچ کو واشنگٹن میں ایک امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب میں گفتگو کے دوران کیا تھا۔

تقریب کے دوران ان سے پوچھا گیا تھا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے عمل میں پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے پاکستان کے پاس کیا ذرائع ہیں؟

اس پر سرتاج عزیز نے جواب دیا تھا کہ ’اس بات کا تو اعتراف کیا جاتا ہے کہ اچھے وقتوں میں بھی طالبان نے پاکستان کی ہمیشہ نہیں سنی ہے۔ بامیان کے مجسموں کو مسمار کرنا ایک مثال ہے لیکن اب طالبان کی قیادت اور ان کے اہلِ خانہ پاکستان میں موجود ہیں اور یہاں کی طبی سہولیات بھی استعمال کرتے ہیں۔ ہم اس طرح اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔‘

پاکستانی حکام اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں موجود ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی سینیئر اہلکار نے ملک میں طالبان کی قیادت کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی سینیئر اہلکار نے ملک میں طالبان کی قیادت کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے

جمعرات کو دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں ترجمان نفیس زکریا سے اس بیان پر جب ردِ عمل مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہر چیز کا تاریخی پس منظر ہوتا ہے۔ میں یہاں رک جاتا ہوں۔ جو کچھ سرتاج عزیز نے کہنا تھا وہ کہہ چکے ہیں۔ ہم مزید کچھ نہیں کہیں گے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کابل میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کے لیے بات چیت کی تھی۔

اس چار رکنی گروپ کی یہ چوتھی ملاقات تھی اور توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل رواں ماہ پاکستان میں شروع ہوگا۔

اس بارے میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ’مذاکراتی عمل چاروں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ابھی تک اس عمل کے آغاز کی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جب ہوگی، تو میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان نے طالبان گروہوں اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، تاہم، یہ عمل طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد معطل ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں