گوادر والوں کےلیے قانون سازی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption گوادر میں آبادی کے تناسب سے آباد گھرانوں کو شہر کی آمدنی سے براہ راست حصہ دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر کی بندرگاہ کے فعال ہونے سے گوادر کی مقامی آبادی کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشات کے منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

ان خیالات کااظہار انھوں نے کوئٹہ اور گوادر سیف سٹی پروجیکٹس حوالے سے کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔

گوادر سیف سٹی منصوبے پر مجموعی طور پر 10 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ وزیراعظم نے گوادر کے مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے اور جلد یہ بل اسمبلی میں لایا جائےگا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون سازی کے تحت گوادر میں باہر سے آنے والوں کا نام نہ تو ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکے گا اور نہ ہی ان کے قومی شناختی کارڈ میں گوادر کو ان کے مستقل پتے کے طور پر لکھا جا سکے گا۔

ثنا اللہ زہری نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اب وہ ’نرم اہداف‘ کو نشانہ بناتے ہیں، لہذا کوئٹہ اور گوادر کو محفوظ بنانے کے منصوبوں میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے۔

اس موقع پر چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے بتایا کہ گوادر میں آبادی کے تناسب سے آباد گھرانوں کو شہر کی آمدنی سے براہ راست حصہ دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تین ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کے فیز ون میں گوادر پورٹ، فش ہاربر اور شہر کے دیگر مقامات پر 450 کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثنا اللہ زہری کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے گوادر کے مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے کی ہدایت کی ہے

اس کے علاوہ شہر کی لیزر فینسنگ بھی کی جائے گی، جس سے کسی بھی غیر متعلقہ یا مشکوک شخص کے شہر میں داخلے کا پتہ لگایا جا سکے گا۔

آئی جی پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ گوادر سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت پولیس کی 800 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں اور ان اہلکاروں کو جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔

گوادر سیف سٹی منصوبے پر 10ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی جس کے لیے نصف فنڈ وفاقی حکومت فراہم کرے گی جبکہ نصف اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ کو محفوظ شہر بنانے کے لیے ایک ارب 80 کروڑ روپے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔

کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف مقامات پر نائٹ وژن لیزر ٹیکنالوجی سے لیس 1440 ایچ ڈی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نیسپاک کے ذریعے کروائے گئے سروے میں کیمروں کی تنصیب کے لیے 261 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ کوئٹہ کے چھ داخلی راستوں پر سکینرز اور خصوصی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

یہ سکینرز کی شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹ پڑھ کر یہ ڈیٹا محفوظ کریں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جی آئی ایس نظام کی مدد سے سیٹلائیٹ کے ذریعے کوئٹہ شہر کا مکمل نقشہ بھی تیار کیا گیا ہے اور شہر کی مکمل نگرانی کے لیے اسے مختلف بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں