نو سالہ لڑکی کو ونی کرنے کے جرم میں پنچایت کے رکن گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہندو پنچائت کے باقی ارکان جو مبینہ طور پر ونی کے اس فیصلے میں شامل تھے ان کی تلاش جاری ہے

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں پولیس نے نو سالہ ہندو بچی کو ونی ہونے سے بچا لیا اور قتل کے بدلے میں نو سالہ بچی کی 14 سالہ لڑکے سے شادی کا فیصلہ صادر کرنے والے چار پنچایتیوں کو گرفتار کر لیا۔

رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کےگاوں چک 84/ اے میں مینگوال ہندو برادری کی ایک پنچایت نے فیصلہ دیا تھا کہ بیوی کے قاتل گامو رام کی جان بخشی کے لیے اس کی نو سالہ بہن سونی مائی کی شادی مقتولہ بختو مائی کے ایک رشتہ دار 14 سالہ لڑکے ہری چند سے کر دی جائے۔

پولیس کے مطابق پنچایت نے گامو رام پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا تھا اور جمعے کو شادی طے کر دی گئی تھی۔

مقامی تھانہ تبسم شہید کے ایس ایچ او چوہدری یاسین کے مطابق انھیں جب اس کی اطلاع ملی تو وہ نفری لے کر فوری طور پر علاقہ میں پہنچے اور پنچایت کے چار افراد کو گرفتار کر کے زیرِ دفعہ 310 اے تعزیرات پاکستان مقدمہ درج کر لیا اورشادی رکوا کر بچی کو ونی ہونے سے بچا لیا۔

چوہدری یاسین نے بتایا کہ 20 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جن کی گرفتاریوں کے لیے پولیس کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ونی ہونے والی بچی کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

مقامی صحافی عرفان ملک نے بتایا کہ گامو رام نے 21 فروری کو اپنی بیوی بختو مائی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔ گامو رام کو شک تھا کہ مقتولہ کے کسی غیر شخص سے ناجائز تعلقات تھے۔ گامو رام اس وقت قتل کے الزام میں جیل میں ہیں اور پنچایت کے فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں ان کی رہائی ممکن بنائی جانی تھی۔

اسی بارے میں