طالبان رہنماؤں کو رکھنے کا اعتراف کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرتاج عزیز نے کہا: ہمارا ان (طالبان) پر کچھ اثر ہے کیونکہ ان کی قیادت پاکستان میں ہے

پاکستانی وزیرِ اعظم کے خارجہ امور سے متعلق مشیر سرتاج عزیز نے بین الاقوامی تعلقات پر واشنگٹن کونسل میں ہونے والے ایک اجلاس میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ افغان طالبان کی قیادت پاکستان میں مقیم ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے اس انکشاف میں کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے متعلق بات کرنے سے پاکستان کی طاقتور فوج کتراتی رہی ہے۔

سرتاج عزیز نے کیا کہا؟

سرتاج عزیز سے پوچھا گیا کہ پاکستان کس حد تک طالبان کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے یا اُن پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ کابل سے امن مذاکرات کریں؟ اس پر انھوں نے کہا: ’ہمارا اُن پر کچھ اثر ہے کیوں کہ اُن کی قیادت پاکستان میں ہے اور وہ کچھ طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں اُن کے خاندان یہاں ہیں۔ اس لیے ہم اُنھیں یہ کہلوانے پر زور ڈال سکتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔‘

تاہم انھوں نے سی ایف آر میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کی وضاحت کی کہ پاکستانی حکومت افغان حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات نہیں کر سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مبصرین کو طالبان کے پاکستان میں ہونے سےمتعلق بیان سے حیرانی نہیں ہوئی

انھوں نے کہا: ’یہ افغان حکومت اور افغان حکومت کا فرض ہے کہ وہ آپس میں بات چیت کریں۔‘

مہنگا سودا؟

سرتاج عزیز کی ان باتوں کو تجزیہ نگاروں کی جانب سے پاکستانی حکام کی جانب سے اب تک کا ایک کُھلا اعتراف تصور کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ افغانی باغی پاکستان میں پُرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔

ماضی میں پاکستان اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ پاکستان میں طالبان کا کوئی اثر ہے، سوائے افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع نیم خومختار قبائلی علاقوں کے علاوہ اُن کے پاکستانی سرزمین پر کوئی ٹھکانے ہیں۔

سرتاج عزیز کا یہ بیان اس علاقے میں 20 ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے متعلق پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اُس نے ملک سے تمام عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

مذاکرات پر کیا اثر ہوگا؟

سرتاج عزیز پاک امریکہ سٹریٹیجک مذاکرات کے چھٹے دور میں اپنی ٹیم کی قیادت کے سلسلے میں رواں ہفتے واشنگٹن میں موجود تھے۔ اِن مذاکرات میں افغانستان میں امن کے قیام اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کے متعلق بات چیت شامل ہے۔

دسمبر سے ایک چار ملکی اشتراکی گروپ کا رُکن ہے جس میں افغانستان، امریکہ اور چین بھی شامل ہیں۔گذشتہ دو ماہ کے دوران گروپ افغان امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے چار اجلاس منعقد کر چکا ہے۔

سی ایف آر میں اپنی بات چیت کے دوران سرتاج عزیز نے اس بات کا اشارہ دیا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان شاید آنے والے دس سے 15 دنوں کے دوران ملاقات ممکن ہو سکے گی۔

پاکستان میں کیا ردِعمل رہا ہے؟

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس معاملے کا محتاط جائزہ لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دس پندرہ روز میں افغان امن مذاکرات کے ایک اور دور ہوگا

جمعرات کے روز دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان نے سرتاج عزیز کے بیان پر کوئی بھی ردِعمل دینے سے انکار کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا: ’ہم (سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر) کسی بھی قسم کا تبصرہ نہیں کرتے۔ وہ (سرتاج عزیز) کو جو کہنا تھا انھوں نے کہ دیا ہے۔‘ لیکن دنیا بھر میں پاکستان پر نظر رکھنے والوں کے لیے اُن کے یہ خیالات کسی نئی بات کے طور پر سامنے نہیں آئے۔

کیا شواہد ہیں کہ افغان طالبان پاکستان میں موجود ہیں؟

بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے پاکستان پر بہت عرصے سے بھارت کا اثر ورسوخ کم کرنے کے لیے افغان طالبان کو افغانستان میں اپنے نمائندے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اُن کی حفاظت کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

ایک طرف تو اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً مستقل بداعتمادی کی فضا قائم کر دی ہے اور دوسری طرف پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ دونوں پڑوسی ممالک پاکستان پر عسکریت پسندوں کو اپنی ریاستی پالیسی کے آلہ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم اسلام آباد کی جانب سے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں افغانستان سے متعلق بی بی سی کے سابق نامہ نگار طاہر خان کا کہنا ہے کہ ’اس کی وجہ سے افغان امن مذاکرات میں خلا پیدا ہوگیا ہے۔‘

انھوں نے اگست سنہ 2015 کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ناقابلِ اعتبار کابل اسٹیبلشمنٹ نے طالبان کے امیر مُلا عمر کی ہلاکت کی خبر جاری کر دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ملا عمر نے کراچی کے ایک ہسپتال میں وقت گزارا تھا۔ اس انکشاف نے پاکستان کو شرمندہ کر دیا تھا اور طالبان کی صفوں میں انتشار پیدا ہوا۔ جن میں سے کچھ نے تنظیم کی موجودہ قیادت پر مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی ایما پر تین سال سے ’چالاکی سے خبر چُھپانے‘ کا الزام لگایا۔

اس بات کے اظہار کی دیگر کئی مثالیں ملتی ہیں کہ طالبان رہنما پاکستان میں کام کرتے رہے ہیں۔اس کی ایک اور واضح مثال سنہ 2013 میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حقانی نیٹ ورک کے رہنما نصیر الدین حقانی کی ہلاکت ہے۔

یہ تاثر بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے کہ مری میں جولائی سنہ 2015 میں افغان حکام کے ساتھ امن مذاکرات کے پہلے دور میں شرکت کرنے والے طالبان مندوبین بیرونِ ملک سے سفر کر کے نہیں آئے تھے بلکہ پاکستان کے اندر سے ہی آئے تھے۔

پشاور میں ڈان اخبار کے مدیر اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ سرتاج عزیز کا یہ بیان اس سلسلے میں پاکستان کے انحراف کے حوالے سے کردار کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغانستان میں چودہ برس تک جاری رہنے والی مزاحمت میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں

انھوں نے کہا کہ ’معتبر تردید کا عنصر اب یہاں موجود نہیں رہا اور سرتاج عزیز نے اس معاملے کو واضح کر دیا ہے۔‘ سرتاج عزیز کے اس بیان کو فوج کیسے دیکھے گی؟

پاکستان ایک ایسا ملک رہا ہے جہاں خارجہ پالیسی، دفاع اور داخلی سلامتی کے تمام مسائل پر ہمیشہ سے فوج کے خصوصی اثرات رہے ہیں۔ طالبان اور دیگر شدت پسند نیٹ ورک جو خطے میں سرگرمِ عمل ہیں اس اثر میں آتے ہیں۔ اس لیے سرتاج عزیز کے اس بیان نے سوالات اُٹھا دیے ہیں کہ آیا اُن کے خیالات فوج کے عکاس ہیں یا نہیں۔

ڈان اخبار کے اسماعیل خان کو یقین ہے کہ فوج کو شاید سرتاج عزیز کے اس بیان سے کوئی مسئلہ نہ ہو کیوں کہ انھوں نے حقیقت پر مبنی بات کی ہے۔

بی بی سی کے سابقہ نامہ نگار طاہر خان کا خیال ہے کہ اگر فوج کو اس بیان پر کوئی تحفظات ہوئے تو ہم جلد ہی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سرتاج عزیز کے بیان پر وضاحت کی کوششیں دیکھ لیں گے۔

اور شاید جیسے افغان حکام کی جانب سے ملا عمر کی ہلاکت کے انکشاف کے موقعے پر فوج کی جانب سے خاموشی اختیار کر لی گئی اس بار بھی ویسی ہی خاموشی اختیار کر لی جائے۔

طالبان کا ردِعمل کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ

افغان طالبان نے اب تک سرتاج عزیز کے بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ طاہر خان کا خیال ہے کہ اس بات کو تسلیم کرنا کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں مقیم ہے شاید طالبان پر اخلاقی دباؤ ڈالے جس کی وجہ سے وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے احکامات پر عمل کرنے لگیں۔

کیوں کہ یہ بیان موجودہ طالبان سربراہ ملا اختر منصور کے مخالف باغیوں کے خیالات کی توثیق کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے نوکر ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ طالبان قیادت کی صفوں میں کئی ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پاکستانی شرائط پر کابل کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ملا منصور پاکستان کے حوالے سے اختلافی راستے پر ہی چلتے ہیں تو خطرہ ہے کہ وہ پاکستان اور اُن کے مخالفین دونوں کے سامنے اپنی ساکھ کھو دیں گے۔

اسی بارے میں