’مخالفین کو الطاف حسین کی صحت کی فکر کیوں ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ندیم نصرت کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات اسی کھیل کا حصہ ہیں جو انیس قائم خانی اور مصطفیٰ کمال کو لاکر کھیلا جا رہا ہے۔

بی بی سی اردو کے عمر آفریدی سے لندن میں ایم کیوایم کی سپریم کونسل کے سربراہ ندیم نصرت نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’الطاف حسین بالکل ٹھیک ہیں اور جتنے ایکٹو وہ ہیں اتنا کوئی بھی پاکستان کا سیاستدان نہیں ہے۔‘

ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر ایک ماحول بنانا اور لوگوں کو یہ تاثر دینا کہ الطاف حسین کی صحت تھیک نہیں ہے یہ سب اسی کھیل کا حصہ ہیں جو انیس قائم خانی اور مصطفیٰ کمال کو لا کر کھیلا جا رہا ہے۔‘

’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایم کیو ایم کے تو اتنے خلاف ہیں اور الطاف حسین کی صحت کے لیے اتنے فکرمند رہتے ہیں۔پاکستان میں اتنی سیاسی جماعتیں اور لیڈر ہیں ہمارے میڈیا کے لوگوں کو اور مخالفین کو ان کی صحت کی فکر کیوں ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے اہم سابق رہنماؤں، مصطفٰی کمال اور انیس قائم خانی نے ایم کیو ایم کی قیادت پر رشوت، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ ہونے جیسے الزامات لگائے تھے۔

تاہم اس بار اب تک ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی زبانی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اس حوالے سے ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت الطاف حسین کے خطاب، تقاریر اور تصاویر کی پرنٹ اور ایلکٹرانک میڈیا پر پابندی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’الطاف حسین ایک سیاسی جماعت کے قائد ہیں اور وہ خود ماضی میں متعدد مواقعوں پر تقاریر کے ذریعے تردید کر چکے ہیں۔‘

اسی بارے میں