’لوگ سیکریٹری سمجھتے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ناز خان ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ اُن کا شمار اُن گنی چنی پاکستانی خواتین میں ہوتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اُس مقام پر پہنچی ہیں جو کسی عورت تو کیا مردوں کے لیے بھی آسان نہیں ہے۔

ناز کا کہنا ہے کہ کامیابی کا یہ طویل سفر بہت کٹھن تھا اور انھیں اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ نجی زندگی کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے کسی مرد کے مقابلے میں بہت زیادہ جدوجہد کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان کے شہری علاقوں میں خواتین میں ملازمت کرنے کا رجحان ہے لیکن اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ناز نے بتایا کہ 25 سال قبل جب انھوں نے ملازمت شروع کی تو اُس وقت مالیاتی شعبے میں چند ہی خواتین تھیں۔

’90 کی دہائی میں جب میں نے بروکیرج فرم جوائن کی تو لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ کوئی خاتون بھی مینیجر کی سطح پر کام کر سکتی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کوئی سیکریٹری ہے لیکن پھر آہستہ آہستہ معاشرے نے خواتین کے کام کرنے کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے۔‘

پاکستان کی مجموعی آبادی میں تقریباً نصف خواتین ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی افرادی قوت میں شامل محض 23 فیصد خواتین ہی کام کرتی ہیں، جو خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

پاکستان کے شہری علاقوں میں خواتین میں ملازمت کرنے کا رجحان ہے، لیکن اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔

ناز نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’کئی خواتین بہت قابل ہوتی ہیں لیکن ٹاپ مینیجمنٹ تک پہنچنے کے لیے زیادہ تخلیقی ہونا پڑتا ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ یہ کام کرنے کے لیے انھیں اپنی زندگی بہت سی چیزوں کو نکالنا ہو گا، تو پھر اکثر خواتین نچلے درجوں پر کام کرتی رہتی ہیں یا نوکری چھوڑ دیتی ہیں۔‘

اُن کے بقول ’خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ یکساں مواقع کی بات ہوتی ہے لیکن خواتین کو ملازمت جاری رکھنے اور اوپر تک آنے کے لیے زیادہ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

جہاں چند خواتین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، وہیں پاکستانی خواتین کی اکثریت غیر ہنرمند اور کم تعلیم یافتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین کام کرنے کی بجائے گھر پر رہنے کو ترجیح دیتی ہیں اور اگر وہ ملازمت کرتی بھی ہیں تو غیر تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے اُن کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔

Image caption 12 سال کی عمر میں لیلیٰ کی شادی ہوئی اور شوہر بیمار اور ضعیف ہیں اس لیے چار بچوں کی کفالت اُن کی ذمہ داری ہے

کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں لیلیٰ اور اُن کی بیٹی ایک سی فوڈ کمپنی میں کام کرتی ہیں۔ گذشتہ 12 برسوں سے لیلیٰ کے معمولات میں سیپیوں کو چن کر صاف کرنا اور اُن کی پیکنگ شامل ہے۔ وہ کہتی ہے کہ 12 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوئی اور شوہر بیمار اور ضعیف ہیں، اس لیے چار بچوں کی کفالت اُن کی ذمہ داری ہے۔

’کمپنی والے 12 ہزار روپے دیتے ہیں۔ شوہر کی دوائی لانا ہوتی ہے۔ بچوں کے کھانے پینے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔‘

لیلیٰ کی بیٹی فرزانہ بھی اپنی ماں کے ساتھ سی فوڈ کمپنی میں کام کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بچوں کو تعلیم دلوانا چاہتی تھیں لیکن حالات کی وجہ سے وہ فرزانہ کو تعلیم نہ دلوا سکیں۔

لیلیٰ کہتی ہے کہ نو عمر بیٹی کو ساتھ لے کر روزانہ کمپنی آنا مشکل ہے، لیکن اس کے بغیر اُن کا چارہ بھی نہیں۔’ کرائے کا مکان ہے، بچے ہیں، ان کی روٹی کا بندوبست کروں۔ انھیں کیسے سکول بھیجوں؟ راستے میں لوگ تنگ کرتے ہیں لیکن ہمیں برداشت کرنا ہوتا ہے کیونکہ اگر مزدوری نہیں کریں گے تو کھائیں گے کیسے۔ برادشت کر کے آگے چل پڑتے ہیں۔‘

پاکستان میں خواتین میں خواندگی کی شرح مردوں کے مقابلے میں کم ہے اور صرف 48 فیصد خواتین خواندہ ہیں، جن کی بڑی تعداد شہروں میں رہتی ہے۔

ایشیائی ممالک میں پاکستان کی معیشت 15 ویں بڑی معیشت ہے اور پاکستان مالی سال 2015، 2016 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 5.5 فیصد کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار ملک کی افرادی قوت پر ہے اور ملک کی نصف آبادی کو معیشت پر بوجھ بننے کے بجائے اقتصادی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرتی رویوں کو تبدیل کیا جائے۔

اسی بارے میں