ساڑھے چار سال بعد مقتول گورنر کے بیٹے کی بازیابی

Image caption شہباز تاثر ازبکوں کی قید میں تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے مغوی صاحبزادے شہباز تاثیر کوئٹہ کے قریب کچلاک سے بازیاب کروا لیے گئے ہیں۔

پاکستان کی سول اور فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی بازیابی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔

’سب سے بڑا غم بھائی کا اغوا

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے منگل کوسینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے شہباز تاثیر کی بازیابی کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کے معاملے کی تصدیق آئی جی بلوچستان سے بھی کی۔ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں مشترکہ آپریشن کے دروان شہباز تاثیر کو بازیاب کروایا گیا۔

شہباز تاثیر کی اغوا کاروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ابھی وہ اس معاملے پر مزید معلومات فراہم نہیں کر سکتے ہیں۔ وقت آنے پر ایوان کو آگاہ کریں گے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار کاکڑ نے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا گیا کہ شہباز تاثیر کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے اور شہباز تاثیر کی حالت ٹھیک ہے۔

شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ اغواکاروں نے ان کی رہائی کے بدلے بہت زیادہ تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم ادا ہوئی یا نہیں۔

کوئٹہ سے موصول ہونے والی رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ شہباز تاثیر کچلاک کے ایک ریسٹورنٹ میں منگل کو آئے کھانا کھایا اور اس کے بعد انھوں نے لاہور میں فون کرنے کے لیے پوچھا۔ مگرحکام نے اس حوالے سےمقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تصدیق نہیں کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مغربی بلوچستان میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ اعتزاز گوریا نے بتایا ہے کہ ’ انٹیلیجنس فورسز اور پولیس اہلکار کوئٹہ کے شمال میں 25 کلومیٹر دور واقع کچلاک نامی علاقے میں ایک کمپاؤنڈ میں گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا اور چھاپہ مارا، ہمیں وہاں کوئی نہیں ملا، وہاں صرف ایک ہی شخص تھا اور اس نے ہمیں بتایا کہ میرا نام شہباز ہے اور میرے باپ کا نام سلمان تاثیر ہے۔‘

اس کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے شہباز تاثیر کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جبکہ اس سے قبل بلوچستان ایف سی کی جانب سے شہباز تاثیر کی بحفاظت بازیابی کا اعلان کیا گیا۔

شہباز تاثیر کو 26 اگست سنہ 2011 کو لاہور میں اپنے گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔

لاہور سے صحافی ناصر خان کے مطابق شہباز تاثیر کی بازیابی کے بعد لاہور میں ان کے گھر پر مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ گیا جبکہ میڈیا کے درجنوں نمائندے کیمروں کے ساتھ ان کے گھر کے باہر براجمان ہوگئے۔

Image caption لاہور میں شہباز تاثیر کے گھر کے باہر کا منظر

یہ خبر ملنے کے بعد ان کی رہائش گاہ کے اردگرد کی سیکیورٹی بھی بڑھادی گئی ہے۔

شہبازتاثیر کی بازیابی کی خبر کے ساتھ ہی لاہور کے ٹی وی چینلز نے سب سے پہلے کیولری گراونڈ میں ان کی رہائش گاہ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور درجنوں کیمرے اور ڈی ایس این جیز نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے گھر کے سامنے مورچے بنا لئے ہیں اور ہر آنے جانے والے کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرتے رہے۔

میڈیا کے علاوہ گھر کے باہر دوسری بڑی تعداد پولیس اہل کاروں کی دکھائی دی جن میں مرد و خواتین اہل کاروں کی بڑی تعداد شامل ہیں۔

لوگوں کی بڑی تعداد جن میں زیادہ تر تاثیر فیملی کے دوست احباب کی ہے ان کے گھر پہنچی۔ تاثیر فیملی کے گھر مبارک باد کے لئے آنے والے اپنے ساتھ گلدستے بھی ساتھ لارہے تھے تاہم نہ تو خاندان میں سے کسی فرد اور نہ ہی مہمانوں میں سے کسی نے میڈیا سے گفتگو کی۔

Image caption لوگوں کی بڑی تعداد جن میں زیادہ تر تاثیر فیملی کے دوست احباب کی تھی شہباز تاثیر کی بازیابی کی خبر سنتے ہی ان کے گھر پہنچے

میڈیا کو صرف اتنا بتایا گیا کہ شہبازتاثیر کا ان کے اہل خانہ سے بات کرادی گئی ہے اوران کی حالت بہتر ہے۔ سلمان تاثٰیر کے گھر مبارک دینے والے اولین مہمانوں میں پاکستان علماء کونسل کے چئیرمین علامہ طاہر اشرفی بھی شامل تھے جو تاثیر فیملی سے ملے اور شہباز تاثیر کی باحفاظت بازیابی پر ان کو مبارک باد دی۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو بھی سنہ 2013 کی انتخابی مہم کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption شہباز تاثیر کو دفتر جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا

اسی بارے میں