تمام ادارے رینجرز کے تحفظات دور کریں: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز کے وکیل نے عدالت میں رپورٹ پیش کی تھی کہ انسداد دہشت گردی کے اختیارات پر قدغن کی وجہ سے انہیں مشکلات پیش آرہی ہیں

سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کی ہے کہ کراچی میں قیام امن کے لیے وفاقی، صوبائی حکومتیں اور تمام شراکت دار مل بیٹھ کر رینجرز کے تحفظات کا حل تلاش کریں تاکہ اداروں کا ٹکراؤ ختم کیا جا سکے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوسرے دن آئی جی غلام حیدر جمالی نے قلیل وقت کے اغوا کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی ثنااللہ عباسی کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

’کراچی میں قیامِ امن کےلیے کسی بھی حد تک جائیں گے‘ رینجرز کو خصوصی اختیارات کے بغیر کراچی میں امن ناممکن

جسٹس امیر ہانی مسلم نے سوال کیا کہ ’صرف ایڈیشنل آئی جی کو کیوں نوٹس جاری کیا گیا ہے؟ اصل کارروائی تو ایس ایس پی کے خلاف ہونی چاہیے تھی۔ آپ نے جو کام کیے ہیں، وہ ٹھیک ہے جو کام آپ نے نہیں کیے، ان کا نوٹس لیا جائے گا۔‘

جسٹس عظمت سعید نے آئی جی کو مخاطب ہو کر ریمارکس دیے کہ ’جو کام نہیں کریں گے وہ ہم دیکھیں گے، اگر ہم نے دیکھا تو پھر آپ کے لیے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔‘

واضح رہے کہ ایک روز قبل جسٹس انور ہانی مسلم نے آئی جی کو آگاہ کیا تھا کہ شارٹ ٹرم اغوا کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ ’کیا آپ کو اس کے بارے میں علم ہے؟ ان میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ عدالت نے قلیل مدت کے لیے اغوا ہونے لوگوں کی فہرست آئی جی کو دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’ان میں سے کتنے مقدمات کے چالان پیش کیے گئے ہیں؟‘

آئی جی غلام حیدر جمالی نے منگل کو بینچ پر بےاعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز بھی نامناسب ریمارکس دیے گئے تھے، جس پر انھیں اعتراض ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ہدایت کی کہ اگر انھیں بینچ پر اعتراضات ہیں تو تحریری طور پر درخواست دی جائے۔ ’مقدمات درج کرنا پولیس کا اختیار ہے لیکن ان کی مجبوری ہے کہ وہ آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔‘

سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ 2015 کے دوران سات ملزمان کو پیرول پر رہا کیا گیا تھا جن میں سے تین ملزم اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے کس قانون کے تحت عمر قید کے سزا یافتہ قیدیوں کو رہا کیا ہے؟‘

چیف سیکریٹری صدیق میمن نے عدالت میں پیش ہوکر رینجرز کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے انھیں مخاطب ہوکر کہا کہ ’چیف سیکریٹری صاحب آپ بتائیں کہ پولیس کیا کر رہی ہے؟ آپ کے افسران جھوٹ بول رہے ہیں۔‘ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ اگر پولیس افسر ایک سال میں سات مرتبہ تبدیل ہوگا تو وہ کیا کام کرے گا؟

عدالت نے صوبائی حکومت اور وفاق کو رینجرز کے مسائل حل کرنے، 2015 میں ٹارگٹ کلنگ کے 57 مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے اور پیرول پر رہائی پانے والے قیدیوں کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد سماعت دس مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ رینجرز کے وکیل نے گذشتہ روز عدالت میں رپورٹ پیش کی تھی کہ انسداد دہشت گردی کے اختیارات پر قدغن کی وجہ سے انھیں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انھوں نے رینجرز کو تھانوں کے قیام، ایف آئی آر درج کرنے اور ملزمان سے تفتیش کرکے چالان پیش کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

چیف سیکریٹری صدیق میمن نے منگل کو رینجرز کی رپورٹ پر شق وار جواب دائر کیا ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رینجرز کو تھانوں کے قیام اور ایف آئی آر کے اندراج کے اختیارات دینے کے بارے میں قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں، وفاق کے ساتھ مل کر رینجرز اختیارات کے بارے میں قانون سازی کی جائےگی۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت رینجرز سمیت دیگر وفاقی اداروں سے مشاورت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف مستقبل کی حکمت عملی میں بھی ان اداروں کی مشاورت اور تجاویز شامل ہوں گی۔

چیف سیکریٹری کی رپورٹ کےمطابق رینجرز کو مطلوب سہولیات سندھ حکومت فراہم کرتی آئی ہے، پولیس افسران کی تبادلوں اور تعیناتیوں کا ایک طریقہ کار واضح کر دیا گیا ہے اس سلسلے میں کوئی بھی بے ضابطگی نہیں برتی جاتی۔

اسی بارے میں