مصطفیٰ کمال کی سرگرمیوں میں تیزی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption فیصل واڈا پی ٹی آئی کے وہ رہنما ہیں جو الطاف حسین کی کھل کر بڑے وا شگاف الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں

کراچی کے سابق میئر اور ایم کیو ایم کے سابق رکن مصطفی کمال نے کراچی میں اپنی ملاقاتوں کے دائرے میں ایم کیو ایم کے ناراض اراکان کے علاوہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کو بھی شامل کر لیا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں انھوں نے ایم کیو ایم کے بعض اہم اراکین سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت سے بھی ملاقات کی ہے۔

مصطفی کمال کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ابھی ایسی ملاقاتوں کی تفصیلات سیاسی وجوہات کی بنا پر عام نہیں کر رہے اور نہ ہی کسی ایسی ملاقات کی تصدیق کر رہے ہیں۔

لیکن مقامی ذرائع ابلاغ میں ان کی تیزی سے جاری سرگرمیوں کی بڑی دلچسپی سے خبریں دی جا رہی ہیں۔ کراچی میں پی ٹی آئی کی جس اہم شخصیت سے ان کی ملاقاتوں کی خبریں گرم ہیں ان میں فیصل واڈا کا نام لیا جا رہا ہے۔

فیصل واڈا پی ٹی آئی کے وہ رہنما ہیں جو الطاف حسین کی کھل کر بڑے واشگاف الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں اور انھوں نے الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطابات کی ذرائع ابلاغ پر لائیو نشریات پر پابندی لگانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

فیصل واڈا اور مصطفی کمال کی ملاقات کے پس منظر میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ملاقات اگر مستقبل میں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے تو یہ کراچی کی سیاسی پچ پر پی ٹی آئی کی ایک بڑی وکٹ گرنے کے مترادف ہو گا۔

یاد رہے کہ مصطفی کمال کے کراچی پہنچنے کے بعد سے ملک کی سیاست میں ایک ہچل چل سی برپا ہے۔ مصطفی کمال اور انیس قائمخانی اب تک صرف ڈاکٹر صغیر کے علاوہ ایم کیو ایم کی کسی اور بڑی شحصیت کو اپنا ہمنوا بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

لیکن کراچی میں ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال کی کراچی آمد سے ایم کیو ایم کی اعلی قیادت میں پائی جانے والی تشویش بالکل عیاں ہے۔

ایم کیو ایم کے کئی اہم ارکان نے جو خاموشی اختیار کر رکھی ہے وہ بھی اس ساری صورت حال میں بڑی معنی خیز ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

بی بی سی سے ایک انٹرویو میں الطاف حسین نے ایم کیو ایم کو درپیش موجودہ صورت حال کو ایک کٹھن وقت سے تشبہہ دی ہے۔

اسی بارے میں