شہباز تاثیر کی بازیابی، غلط اطلاعات دینے کی تحقیقات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے منگل کوسینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے شہباز تاثیر کی بازیابی کی تصدیق کی

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مقتول سابق گورنر سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر کی بازیابی کے بارے میں سرکاری حکام کی جانب سے غلط اطلاعات دیے جانے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ نے منگل کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے شہباز تاثیر کی بازیابی کی باقاعدہ تصدیق کی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ شہباز تاثیر کی بازیابی کے معاملے کی تصدیق آئی جی بلوچستان نے بھی کی اور کہا کہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں مشترکہ آپریشن کے دوران شہباز تاثیر کو بازیاب کروایا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے کی رہائی کے معاملے پر غلط معلومات فراہم کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کمیٹی دو دن میں رپورٹ پیش کرے گی اور اس میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل کرائسز مینیجمنٹ سیل شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے شہباز تاثیر اور ان کے اہل خانہ کو فی الوقت سرگرمیاں محدود کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’آئی جی بلوچستان نے شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق آپریشن کی خبر کیوں دی، شہباز تاثیر کی بازیابی سے متعلق اصل واقعات اس کے برعکس تھے، ہمیں قوم سے سچ بولنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے شہباز تاثیر کی تصاویر جاری کی گئیں

گذشتہ روز کوئٹہ سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ شہباز تاثیر منگل کو کچلاک کے ایک ریستوران میں آئے، کھانا کھایا اور اس کے بعد انھوں نے لاہور میں فون کرنے کے لیے پوچھا۔ مگرحکام نے اس حوالے سے مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تصدیق نہیں کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنوب مغربی بلوچستان میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ اعتزاز گورایا نے بتایا ہے کہ ’انٹیلی جنس فورسز اور پولیس اہلکار کوئٹہ کے شمال میں 25 کلومیٹر دور واقع کچلاک نامی علاقے میں ایک احاطے میں گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ ہم نے احاطے کو گھیرے میں لیا اور چھاپہ مارا، ہمیں وہاں کوئی نہیں ملا، وہاں صرف ایک ہی شخص تھا اور اس نے ہمیں بتایا کہ میرا نام شہباز ہے اور میرے باپ کا نام سلمان تاثیر ہے۔‘

اس کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے شہباز تاثیر کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جبکہ اس سے قبل بلوچستان ایف سی کی جانب سے شہباز تاثیر کی بحفاظت بازیابی کا اعلان کیا گیا۔

شہباز تاثیر کو 26 اگست سنہ 2011 کو لاہور میں اپنے گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں