جنوبی وزیرستان سے نو سرکاری اہلکار اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے فاٹا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے افسر اور انجینیئرز سمیت نو سرکاری اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کو تحصیل وانا کے علاقے طوئی خولہ میں پیش آیا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایف ڈی اے کے افسران، انجینیئرز ، اور جیالوجسٹ دو گاڑیوں میں جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد انھیں اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سرکاری افسران اس علاقے میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے گئے تھے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ وہ اس علاقے میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ کے تیاری کے لیےگئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مغویوں میں ایف ڈی اے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عتیق بنگش، تین انجینیئرز، دو ڈرائیور اور ایک جیالوجسٹ شامل ہیں۔

اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اہلکار موقع پر پہنچ گئے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مغویوں کو کس جانب لے جایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی وزیرستان سے سرکاری اہلکاروں کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے 21 اہلکاروں کو بھی اسی قبائلی ایجنسی میں اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ترقیاتی کاموں کے جائزے کے لیے دور دراز علاقوں کو جا رہے تھے۔

سنہ 2013 میں واپڈا کے آٹھ اہلکاروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا جن کی رہائی دو سال کے بعد عمل میں آئی تھی۔

اسی بارے میں