’ ہم کس کس سے لڑیں‘

Image caption یہ میرا حق ہے کہ میں جو چاہوں کروں: عدنانے

خیبر پختونخوا کے خواجہ سراؤں کو روایت پسند صوبے میں روز مرہ کی تفریق اور تشدد کا سامنا رہا ہے۔

نہ صرف عام لوگوں سے بلکہ پولیس جیسے ریاستی اداروں کی جانب سے بھی خواجہ سراؤں کو زیادتی اور تفریق کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔

اس حوالے سے صوبے بھر کے خواجہ سراؤں نے حال ہی میں ’ٹرانس ایکشن خیبر پختونخوا‘ نامی تنظیم قائم کی ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھا سکیں۔

اپنی برادری کی وکالت کی وجہ سے ٹرانس ایکشن خیبر پختونخوا کے کئی کارکنوں کو دھمکیاں ملی ہیں اور تشدد کا نشانہ بھی بنایاگیا ہے۔

پشاور کے ایک رہائیشی علاقے میں الگ سی دنیا ہے، جہاں خون کے رشتوں سے بڑھ کر دوستوں اور اساتذہ کا سہارا اہم ہے۔

اس تین منزلہ گھر میں ہر عمر کے خواجہ سرا رہتے ہیں۔ ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ غم بھی ہے۔

اس گھر کے ایک کمرے میں ایک طرف چائے اور گپ شپ چل رہی ہے، اور دوسری طرف بستر پر بیس سالہ عدنانے کی مرہم پٹی ہو رہی ہے۔

عدنانے پر حملہ

عدنانے پر کچھ ماہ قبل فائرنگ کی گئی تھی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ایک شخص ان کے رقص کی تقاریب میں شرکت کیا کرتا تھا لیکن انھیں مسلسل دھمکیاں دیتا رہتا تھا۔

’وہ مجھے کہتے تھے آپ خود کو جلسوں اور ناچنےگانے تک محدود رکھیں۔ جلسوں میں جانے اور پریس کانفرنسوں میں جانے والی باتیں نہ کریں۔‘

میں نے کہا کہ ’یہ میرا حق ہے کہ میں جو چاہوں کروں۔‘

فائرنگ کا واقعہ رات کے وقت پیش آیا، جب وہ ایک تقریب سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر واپس جا رہی تھیں۔ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور پانچ بار فائرنگ کی۔ ایک گولی عدنانے کے پیٹ میں لگی۔ وہ رات عدنانے زندگی اور موت کی کشمکش میں گزاری۔

لیکن جب عدنانے کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے کر جایا گیا، تو پہلے ہسپتال میں داخلہ نہ ملا۔

’جب ہسپتال میں گئے تو پہلے کہا کہ زنانہ وارڈ میں لے کر جاؤ اور کوئی کہہ رہا تھا کہ مجھے مردانہ وارڈ میں لے جائیں۔ میرا علاج شروع نہیں ہو رہا تھا۔ اس پر میں نے اپنے خواجہ سرا دوستوں کو بتایا اور ان کی مدد سے میڈیا والے بھی سارے آ گئے، اور میڈیا والوں کی وجہ سے میرا علاج شروع ہوا اور پھر میرا آپریشن ہوا۔‘

عدنانے کو اب ایک خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا ہے۔

Image caption خواجہ سراؤوں کے سامنے تو ہماری بے عزتی نہ کرو: پارو

پارو کی سالگرہ

عدنانے کی گرو پارو ہیں۔ خواجہ سراؤوں میں گرو بڑی بہن اور ماں کی طرح سمجھی جاتی ہیں۔

حملے کے بعد عدنانے کو مبینہ حملہ آور کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوتی رہی ہیں اور حملہ آور کے فون نمبر سمیت تمام بات پولیس کو پارو نے بتائی۔ تاہم نہ تو اس کیس میں کوئی گرفتاریاں ہوئی ہیں، اور نہ ہی کسی قسم کی پیش رفت۔

سوات سے پشاور آ کر بسنے والی پارو نے اپنی سالگرہ پر ایک بڑی تقریب منعقد کرنی تھی۔ خواجہ سراؤوں کی زندگیوں میں ان کی سالگرہ بہت اہم ہوتی ہے۔

پارو اس تقریب کے لیے چار برس سے پیسے جمع کر رہی تھیں۔ ’ہماری تو اور کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ جیسے آپ کے ہاں شادی، بھائی کی، بہن کی، بچوں کی۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہم پیدا ہی اسی لیے ہوئے کہ ہم دوسروں کی خوشیوں پر ناچیں۔‘

لیکن ضلع پریپور کے جس شادی حال میں پارو نے اپنی سالگرہ کی تقریب کی بکنگ کروائی، عین وقت پر انھوں نے تقریب کے لیے جگہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

’ہم نے ان سے کہا کہ آپ سے تین ماہ پہلے بات کی تھی، کیوں ہماری بے عزتی کر رہے ہو۔ آپ لوگوں کے لیے ہماری عزت ہے ہی نہیں، ہمارے خواجہ سراؤوں کے سامنے تو ہماری بے عزتی نہ کرو۔ میں نے چھ سات سو خواجہ سراؤوں کو بلایا تھا اور کھانا بھی پشاور سے بنوا کر لے کر گئے تھے۔‘

جب پولیس نے بھی تقریب کی اجازت سے انکار کر دیا، تو پارو نے صوبے کے انسانی حقوق کے ادارے میں پولیس کے خلاف شکایت کی۔ ہری پور کی پولیس نے جواب دیا کہ اس تقریب کی وجہ سے علاقے میں بدامنی کا خدشہ ہو سکتا تھا، اسی لیے تقریب کو روکا گیا۔

اس پر پارو نے صوبے کے انسانی حقوق کے ادارے کو شکایت کی کیونکہ ان کی ساتھیوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ٹرانس ایکشن خیبر پختونخوا کے نام سے تنظیم قائم کی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ صوبے کے خواجہ سرا اکھٹے ہو کر سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعے سرگرم ہیں۔

Image caption دل چاہتا ہے کہ میں پاکستان چھوڑ دوں: عائشہ

روز مرہ کی زیادتی سے بیزارعائشہ

عائشہ بھی اس تنظیم میں متحرک ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر، کیونکہ وہ اپنی باقی ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ پڑھی لکھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کے دھمکیوں کے باوجود، وہ اپنی اور اپنی ساتھیوں کی مشکلات کے بارے میں پوری دنیا کو بتانا چاہتی ہیں۔

’فیس بُک پر بہت مثبت ردِ عمل ہے۔ اور جو منفی باتیں ہوتی ہیں، ان کو ہم نظر انداز کرتے ہیں۔ کس کس سے لڑیں؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی میڈیا اور فیس بک کے ذریعے اس لیے اپنے مسائل منظر عام پر لا رہے ہیں تا کہ مستقبل میں خیبر پختونخوا کے خواجہ سراؤوں کو اس قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

عائشہ کو اپنی پڑھائی اس لیے چھوڑنا پڑی کہ ان کو بہت ہراساں کیا جاتا تھا، اور اب انھیں اپنے گھر میں پولیس ہراساں کرتی ہے۔

’مجھے اپنے نئے گھر میں آئے ہوئے دو ماہ ہوئے ہیں اور چار یا پانچ بار پولیس یہاں آ چکی ہے۔ کبھی پیسے مانگتے ہیں، تنگ کرتے، غلط باتیں کرتے اور ہم سے زبردستی ڈانس کرواتے ہیں۔‘

عائشہ اس طرح کے روز مرہ کے واقعات سے بہت مایوس ہو گئی ہیں۔

’کچھ سمجھتے نہیں، کہ یہ بھی انسان ہیں، کسی پر فدا ہو سکتے ہیں، کسی کے بچے ہیں، پاکستانی ہیں۔ میں بیرونِ ملک خواجہ سراؤوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ کتنی آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں تو میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں پاکستان چھوڑ دوں۔‘

ان خواجہ سراؤوں کی دنیا الگ تو ہے، لیکن ان کی کوشش ہے کہ معاشرے میں انھیں عزت دی جائے۔

تب تک ان کی جدو جہد جاری رہے گی۔

اسی بارے میں