’شہباز کے لیے تاوان مانگا گیا تھا‘

Image caption پاکستان میں اعتدال پسند یا لبرل لوگوں کو خاموش کرا دیا جاتا ہے: سارا تاثیر

پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کی بیٹی اور شہباز تاثیر کی بہن سارا تاثیر کے مطابق ان کے بھائی کے اغوا کاروں نے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور رہائی کی شرائط پر بھی بات کی تھی۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستان سے باہر مقیم سارا تاثیر کا کہنا تھا کہ ان سے ذاتی طور پر تو اغواکاروں نے کوئی رابطہ بہیں کیا تھا لیکن ان کے خاندان کے دیگر افراد سے شہباز کی رہائی کے بدلے میں تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ایک عرصے سے اس سلسلے میں بات چیت ہوتی رہی ہے۔

پانچ سال کے بعد گذشتہ ہفتے مغوی شہباز تاثیر کے منظر عام پر آنے کے بعد دیےگئے انٹرویو میں سارا تاثیر نے بتایا کہ گذشتہ پانچ برس ان کے خاندان کے لیے مسلسل ذہنی دباؤ کے طویل سال تھے۔

’میں اتنی پریشان تھی کہ مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ مجھ پر کیا گذر رہی ہے۔ جب میرے بھائی کو رہائی ملی تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے دل سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا ہے، اب میں آزاد اور ہلکا محسوس کر رہی ہوں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں معلوم ہے کہ ان کے بھائی کی رہائی کن شرائط کے تحت ہوئی ہے، تو سارا تاثیر کا کہنا تھا کہ ’مجھے ان شرائط کا علم نہیں ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ شہباز اس بارے میں خود بات کریں گے اور بتائیں گے کہ کیا شرائط طے ہوئی تھیں۔‘

بی بی سی کی نامہ نگار نے جب ان سے پوچھا کہ آیا ان کے والد کے محافظ ممتاز قادری کی پھانسی اور اس کے ایک ہفتے بعد ان کے بھائی کی رہائی کے درمیان کوئی تعلق پایا جاتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد کے قتل کا مقدمہ اور ان کے قاتل کی پھانسی کا فیصلہ ریاست پاکستان کے قانون کے تحت ہوئی ہے، جبکہ میرے بھائی کو اغوا ان لوگوں نے کیا تھا جن کے رابطے طالبان کے ساتھ تھے۔ اگرچہ پھانسی اور رہائی کے واقعات ایک ہفتے کے عرصے میں ہوئے لیکن میرے خیال میں ان دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اب پاکستان میں اعتدال پسند لوگ اپنی بات کھل کر کر سکتے ہیں، سارہ تاثیر کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption شہباز تاثیر بالآخر گذشتہ بدھ کو لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔

’پاکستان میں اعتدال پسند یا لبرل لوگوں یا تو خاموش کرا دیا جاتا ہے اور یا انھیں ملک سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔ میرے اپنے کئی دوستوں پر حملے ہو چکے ہیں اور کئی کو قتل بھی کر دیا گیا ہے اس لیے آج کل کے حالات میں کوئی بھی خطرہ مول نہیں لے سکتا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا انھیں اور ان کے خاندان کو جان کا خطرہ ہے، سارا تاثیر کا کہنا تھا کہ ہمیں ’ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔‘

یاد رہے کہ چار سال چھ ماہ اور چودہ روز کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد سابق مقتول گورنر سلمان تاثیر کے مغوی بیٹے شہباز تاثیر بالآخر گذشتہ بدھ کو لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے تھے۔

شہباز تاثیر منگل کو کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں منظر عام پر آئے۔

اسی بارے میں