لاپتہ کان کنوں کی لاشیں برآمد، ریسکیو آپریشن ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کان میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے سات مزدور لاپتہ تھے جن کی تلاش کا کام اتوار کی شب تک جاری رہا

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے منہدم ہونے والی کوئلے کی کان سے لاپتہ ہونے والے دو کان کنوں کی لاشیں ملنے کے بعد امدادی کارروائیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

جمعے کی شام پیش آنے والے اس حادثے میں سات افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے جبکہ 37 مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا۔

اورکزئی ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ عزیز اللہ جان نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو رات گئے تک مسلسل تلاش کے نتیجے میں دو لاپتہ مزدوروں کی لاشیں مل گئیں جس کے بعد امدادی کارکنوں کی جانب سے ریسکیو آپریشن ختم کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام کان کنوں کی لاشیں ان کی آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جمعہ کی شام بارشوں کے باعث لوئر اورکزئی ایجنسی کے علاقے ڈولی میں کوئلے کی کان جب بیٹھی تو اس میں 44 مزدور پھنس گئے تھے جنھیں نکالنے کے لیے فوج اور فرنٹیئر کور کے جوانوں کی طرف سے ریسکیو آپریشن دو دن تک جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ 37 مزدور پہلے دن نکالے گئے تھے تاہم کان میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے سات مزدور لاپتہ تھے جن کی تلاش کا کام اتوار کی شب تک جاری رہا۔

Image caption پہاڑی علاقوں میں واقع کوئلے کی ان کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں

اہلکار نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ اس حادثے میں دس مزدور ہلاک ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہلاکتوں کے ضمن میں جاری ہونے والی تمام رپورٹوں میں کوئی حقیقت نہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گہرائی کے باعث مزدوروں کی تلاش کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں پہلے بھی کوئلے کی کانوں میں حادثات ہوتے رہے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں واقع کوئلے کی ان کانوں میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث اکثر اوقات قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

کوئلے کی ان کانوں میں کام کرنے والے بیشتر مزدوروں کا تعلق شانگلہ اور سوات کے علاقوں سے ہے جو انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں