پنجاب یونیورسٹی کا گرفتار طالب علم رہا

تصویر کے کاپی رائٹ UNIVERSITY OF PUNJAB
Image caption پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عتیق کا تعلق یونیورسٹی کی پختون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ سے ہے

پاکستان کے شہر لاہور میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ مبینہ تعلق کے شبہے میں حراست میں لیے گئے پختون طالب علم کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے ہیلے کالج میں بی کام آنرز کے طالب علم عتیق الرحمان آفریدی کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جمعہ کو حراست میں لیا تھا۔

اُن پر الزام تھا کہ انھوں نے یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر کے سامنے کہا تھا کہ وہ طالبان رہنماؤں، نیک محمد اور بیت اللہ محسود کو پسند کرتے ہیں اور ان کے قتل کا بدلہ لیں گے۔

اطلاعات کے مطابق عتیق کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کرنے پر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلب کیا تھا۔

یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کو بتایا کہ انھیں یقین نہیں ہے کہ عتیق کا واقعی کسی عسکریت پسند گروپ سے کوئی تعلق ہے یا انھوں نے یہ بات جذبات میں کی تھی۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد نے بتایا کہ عتیق آفریدی کو غالباً پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹٰی ڈی) کے اہل کاروں نے حراست میں لیا تھا لیکن پوچھ گچھ کے بعد انھیں رہا کردیا گیا ہے۔

عتیق آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا تعلق ایف آر پشاور کے علاقے متنی سے ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عتیق کا تعلق یونیورسٹی کی پختون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ سے ہے۔ گذشتہ ماہ اس تنظیم اور بلوچ طلبا کی اسلامی جمعیت طلبا کے ساتھ لڑائی بھی ہوئی تھی جس پر تینوں گروپوں کے 29 طلبا کو معطل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں