گینگ ریپ کے پانچ ملزمان ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

Image caption جنسی زیادتی کے ملزمان کو دس دنوں کے لیے پولیس تحویل میں دیا گیا ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی مقامی عدالت نے ایک 19 سالہ لڑکی کو اغوا، اسے ریپ کرنے اور پھر زہر دینے کے الزام میں زیرِ حراست پانچ ملزموں کو دس روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

مظفر آباد کے سٹی تھانہ کے پولیس افسر پرویز حمید کے مطابق ملزمان کی عمریں 18 سے 19 سال کے درمیان ہیں اور انھیں ہسپتال میں چار روز تک علاج کے بعد ہوش میں آنے والیی متاثرہ لڑکی کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتار کیے جانے والے تمام ملزمان کا تعلق مظفرآباد شہر سے ہی ہے۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا شکار بننے والی لڑکی کو پانچ دن قبل اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ نوکری کے بعد اپنےگھر جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق ملزمان لڑکی کو اغوا کر کے شہر کے قریب ایک ویران علاقے میں لے گئے جہاں اسے گینگ ریپ کیا گیا۔

نوجوان ملزمان نے اپنے جرم کو چھپانے کے لیے مغویہ کو زہر بھی دیا تھا اور پھر اسے مردہ سمجھ کر اس کے گھر کے باہر پھینک دیا۔

لڑکی کے والدین نے اسے ہسپتال میں منتقل کیا جہاں وہ چار روز تک بے ہوش رہی تاہم ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ لڑکی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عموماً خواتین پر تشدد یا جنسی زیادتی کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں تاہم گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ علاقے میں خواتین سے جنسی یا جسمانی تشدد کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل راولاکوٹ میں ایک شوہر نے غیرت کے نام پر بیوی کی ناک کاٹ دی تھی۔

اسی بارے میں