بلوچستان: اللہ نذر بلوچ سمیت 99 افراد کے سر کی قیمت مقرر

Image caption کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کی سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے99 افراد کے سر کی قیمت مقررکی ہے۔

جن افراد کے سر کی قیمت مقرر کی ہے ان میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا نام بھی شامل ہے جن کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق جن عسکریت پسندوں کی سر کی قیمت مقرر کی گئی ہے ان کا تعلق پانچ تنظیموں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ، کالعدم بلوچ ریپبلیکن آرمی، کالعدم لشکر بلوچستان اور کالعدم بلوچ ریپبلیکن گارڈز سے ہے ۔

ان میں سے کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سرکاری حکام نے ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کے بارے میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ گذشتہ سال ایک آپریشن میں مارے گئے ہیں لیکن کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔

محکمہ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 66 افراد کی سر کی قیمت دس لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی ہے ۔

ان 66افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلیکن آرمی سے ہے۔

اسی بارے میں