پشاور: سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے کی تحقیقات شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک کمیٹی پولیس کی طرف سے بنائی گئی ہے جبکہ دوسری کمیٹی محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں پر مشتمل ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سرکاری ملازمین کی بس میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جنھوں نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک کمیٹی پولیس کی طرف سے بنائی گئی ہے جبکہ دوسری کمیٹی محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ ان کمیٹیوں میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی کینٹ اور سی ٹی ڈی کے افسران شامل ہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیموں نے بس کے ڈرائیور اور چند عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور اس ضمن میں ملاکنڈ ڈویژن کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔

دریں اثنا پولیس اور سکیورٹی فورسز نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 30 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہونے والے یہ آپریشنز شہر کے مختلف مقامات حیات آباد، کوتوالی اور پہاڑی پورہ میں کیے گئے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد میں چند افغان شہری بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ روز سرکاری ملازمین کو لے جانے والی ایک بس میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

پشاور میں گذشتہ روز سرکاری ملازمین کو لے جانے والی بس میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق بس میں سول سیکریٹریٹ کے علاوہ دیگر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین سوار تھے جو مردان اور دیگر علاقوں سے پشاور آ رہے تھے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ کچھ عرصے سے تشدد کے واقعات میں پھر سےاضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ضلع چارسدہ میں واقع باچاخان یونیورسٹی اور شبقدر کی مقامی عدالتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

اسی بارے میں