بلوچستان میں 22 عسکریت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ افراد کی گرفتاری ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے عمل میں لائی گئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے چار مختلف علاقوں سے سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشنوں کے دوران مزید 22افراد کو گرفتار کیا ہے ۔

گرفتار افراد کا تعلق کالعدم عسکریت پسند تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق ایف سی نے حساس ادارے کے ساتھ ڈیرہ بگٹی سے متصل نصیرآباد کے علاقے چھتر میں ایک مشترکہ سرچ آپریشن کیا۔

سرچ آپریشن کے دوران 13افراد کو گرفتار جبکہ عسکریت پسندوں کے 3 ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کے شبے میں گرفتار کیا گیا ۔

پانچ افراد کی گرفتاری ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے عمل میں لائی گئی ۔

ایف سی کے ترجمان نے بتایا کہ تمپ سے بھی گرفتار ہونے والے افراد کو کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کے شبے میں گرفتارکرکے ان سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن جبکہ ایک شخص کی گرفتاری پنجگور سے عمل میں لائی گئی ہے۔

ایف سی کے مطابق پنجگور سے گرفتار کیا جانے والاشخص ایک عسکریت پسند تنظیم کا کمانڈر ہے ۔

قوم پرست جماعت بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے چھتر سے گرفتار افراد کے بارے میں سرکاری حکام کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عسکریت پسند نہیں ہیں۔

سوئٹزر لینڈ سے اپنے ایک بیان میں انھوں نے بتایا کہ گرفتار افراد عام شہری ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ چھتر اور سوئی کے علاقے آرڈی 238 میں لوگوں کے گھروں کو بھی جلایا گیا ہے ۔

بلوچستان میں رواں سال کے دوران بھی اب تک بڑی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال نیشنل ایکشن پلان کے تحت 9000سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیچ کے علاقے تمپ سے کالعدم طلباء تنظیم بی ایس او آزاد کی چیئر پرسن کریمہ بلوچ کے کزن عمران بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں