سندھ: زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس کے مطابق ضلع ٹنڈو محمد خان کے نواحی علاقے میں زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

’اصل سے زیادہ جعلی شراب بنتی ہے‘

وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدر آباد کو تحقیقات کر کے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ دینے کا حکم دیا ہے۔

اس سے پہلے مقامی ایس ڈی پی او خالد رستم وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ زہریلی شراب کے واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں چھاپے مارے ہیں اور زہریلی شراب بیچنے کے جرم میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ایس ڈی پی او کے مطابق دیسی شراب کے خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈوان کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر کا تعلق اقلیتی ہندو برادری سے ہے جو ہولی کے تہوار منا رہے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سندھ کے انسپکٹر جنرل اے ڈی خواجہ نے ٹنڈو محمد خان میں زہریلی شراب سے ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے علاقے کے ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت دی جبکہ علاقے میں ایکسایئز کے انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ٹنڈو محمد خان میں مقامی افراد نے زہریلی شراب کے کاروبار کی روک تھام نہ کرنے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر مقامی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔

صوبے سندھ میں اس سے قبل بھی زہریلی شراب پینے سے کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2014 میں حیدرآباد میں ایسے ہی واقعے میں دو درجن کے قریب افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ کراچی میں زہریلی شراب پینے سے27 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں صرف غیر مسلم افراد حکومتی لائسنس سے مقرر کردہ جگہوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔

اسی بارے میں