پی آئی اے کی نجکاری میں حائل رکاوٹیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاجی تحریک چلا کر فضائی کمپنی کے آپریشن کئی دن تک مفلوج کر دیے تھے

نواز حکومت کو حسبِ توقع قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری میں شدید سیاسی دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مخالفت اقتصادی ماہرین کی جانب سے ہوتی تو بات سمجھ میں آتی لیکن ہر مسلہ ہر ٹانگ اڑانے میں ماہر سیاسی جماعتیں ایک مرتبہ پھر اس پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ماہانہ اربوں روپے کا خسارہ برادشت نہیں کرسکتی ہے۔

’ہڑتالی ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے‘حکومت بتائے کہ ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟11 ملازمین برطرف، 165 کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

قومی ایئر لائن میں بدعنوانی اور بدانتظامی کے چرچے تو عام ہیں لیکن سب سے بڑا چیلنج اس میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت خصوصا پیپلز پارٹی کے ادوار میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پی آئی اے میں اس وقت 18 ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن میں سے تقریباً چار ہزار یومیہ اجرت والے ہیں۔ یہ دنیا میں فی نشست کے مقابلے میں عملے کی تعداد کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق حکومت اس سال ایئر لائن کی جزوی نج کاری کے لیے فنانشل ایڈوائزر مقرر کرنے اور 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی پابند ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 300 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ ماہانہ تین ارب روپے کا نقصان برادشت کرنا پڑ رہا ہے۔

نجکاری کے وفاقی وزیر محمد زبیر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اضافی ملازمین کے مسئلے کا حل رضا کارانہ ریٹائرمنٹ اور انھیں دیگر جگہوں پر نوکری حاصل کرنے میں مدد دے کر تلاش کر سکتی ہے۔ لیکن پی آئی اے کے ملازمین کو خدشات لاحق ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے گذشتہ ماہ اس اقدام کے خلاف احتجاجی تحریک چلا کر فضائی کمپنی کے آپریشن کئی دن تک مفلوج کر دیے تھے۔

یہ احتجاج اس وقت خونی بھی ثابت ہوا جب کراچی میں احتجاج کے دوران دو ملازمین ہلاک ہوئے۔

ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق قانون سازی واپس لے۔ ان کا موقف تھا کہ ملازمین کو کپمنی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ان کے حوالے کر دینا چاہیے۔ اگر وہ اس میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر حکومت ان کے ساتھ جو چاہے کرسکتی ہے۔

لیکن فی الحال حکومت اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور ایوان بالا یا سینیٹ میں دو مرتبہ بل کی ناکامی کے بعد اب اسے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حل کرنا چاہتی ہے۔ اور اسی سلسلے میں آج پیر کو پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ہو رہا ہے۔

ایک جانب حکومت نجکاری کے لیے پر تول رہی ہے تو دوسری جانب گذشتہ دنوں اخبارات میں اشتہار کے ذریعے اس نے مزید آٹھ چھوٹے بڑے طیارے لیز پر لینے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

کمپنی کے پاس اس وقت 38 طیارے موجود ہیں۔ ان میں سے 11 بوئنگ ٹرپل سیون، 11 ایئر بس اے 320، پانچ ایربس اے 310 اور 11 اے ٹی آر شامل ہیں۔

ماہرین کے خیال میں سخت مقابلے کے باوجود پی آئی اے کو کئی منافع بخش روٹس پر برتری حاصل ہے اور بہتر انتظامی اور اقتصادی طرز عمل سے تمام مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ اندرونی مسائل کے علاوہ پی آئی اے کے لیے مسافروں کی سروس میں بہتری بھی لانی ہوگی۔

اسی بارے میں