مصطفٰی کمال کی پاک سر زمین پارٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مضطفٰی کمال کے ساتھ ایم کیو ایم چھوڑنے والوں میں انیس قائم خانی، انیس ایڈووکیٹ، ڈاکٹر صغیر احمد، افتخار عالم، وسیم آفتاب اور رضا ہارون شامل ہیں

پاکستان کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے منحرف رہنما مصطفیٰ کمال نے اپنی جماعت کا نام پاک سرزمین پارٹی رکھنے اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کا منشور بنانے کے لیے قابل لوگوں کی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔

کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں چند درجن عام لوگوں اور لگ بھگ اتنے ہی صحافیوں کے سامنے انھوں نے اپنی نئی جماعت کے نام کا اعلان کیا، اس موقعے پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔ تاہم مصطفیٰ کمال نے تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔

٭ کوئٹہ میں مصطفٰی کمال کی تصاویر

٭ ’الطاف نے خطاؤں کو کبھی تسلیم نہیں کیا‘

انھوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر پارٹی لوگو تو سکرین پر دکھایا تاہم پارٹی کے جھنڈے کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن کو ان کی جماعت کے جھنڈے کی ضرورت ہے، وہ بنا دیا جائے گا تاہم ان کے کارکن اور دفاتر میں پاکستان کا جھنڈا ہوگا۔

’کونسا آئین مجھے پاکستان کے جھنڈے کو اپنے سینے پر لگانے سے روک سکتا ہے۔۔۔ پارٹی کا جھنڈا ہی فساد کی جڑ ہے۔‘

انھوں نے 24 اپریل کو باغِ جناح میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

سابق سینیٹر اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال 20 روز قبل دبئی سے پاکستان پہنچے تھے جہاں انھوں نے ایم کیو ایم کی قیادت پر سنگین الزامات عائد کر کے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔

اس سفر میں ان کے ساتھ ایم کیو ایم کے سابق رہنما انیس قائم خانی، انیس ایڈووکیٹ، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر صغیر احمد، افتخار عالم اور سابق رکن اسمبلی وسیم آفتاب، رضا ہارون بھی شریک ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’ہم اختیارات حاصل کرنے، کسی کی پوزیشن یا طاقت چھیننے نہیں آئے ہم وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طرح پاور میں تھے اور اس کو ٹھکرا کر آئے ہیں۔، جب ہم نے دیکھا کہ یہ اسمبلی کی رکنیت اور پارٹی کا نام، لوگوں کے کام اور خدمت نہیں کر پا رہے ہیں تو اپنی صوابدید پر ان ختیارات کو لات ماکر چھوڑ دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ جدوجہد کا مقصد مراعات یا پوزیشنز حاصل کرنا نہیں ہے اور کراچی کے لوگ گواہ ہیں کہ ہم نے ان ساڑھے چار سالوں میں کتنی خدمت کی۔

نو مولود پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستانی مختلف ٹکڑوں میں بٹ گئے ہیں کوئی مذہب کے نام پر کوئی شیعہ، سنی اور دیوبندی کے نام پر تو کوئی قومیتوں کے نام پر بٹ گیا ہے اور کوئی سیاسی پارٹیوں کے نام پر بٹ گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم تقسیم کرنا نہیں چاہتے ہماری بات اگر ہماری ماننے والے بننا چاہتے ہیں تو ہماری ایک بات ماننا ہوگی کہ ہمارے مخالفین اور سیاسی مخالفین سے عزت سے پیش آنا ہوگا، اُن کی عزت کرنا ہوگی، محبت سے پیش آنا ہوگا۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی یا رنگ و نسل سے ہوں۔ان کی بات سننا سیکھیں پھر اپنی بات دلائل سے کرنا سیکھیں۔ ہم مزید اس سوسائٹی کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔‘

خیال رہے کہ وطن واپسی پر کی جانے والی پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال نے کہا تھا کہ الطاف حسین کی وجہ سے ایم کیو ایم نے دشمنیاں مول لیں لیکن ’الطاف حسین صاحب کو کسی کارکن یا مہاجر کی فکر نہیں۔ جب سے ایم کیو ایم میں قدم رکھا ہے لوگ مر رہے ہیں، آپریشن ہو رہا ہے، اسٹیبشلمنٹ سے لڑ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں