’پاکستان میں صدر اقلیتی برادری سے کیوں نہیں بن سکتا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سندھ کے شہر عمرکوٹ میں جمعرات کو ہندو برادری کے تہوار ہولی کے موقعے پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ اگر ہندوستان میں مسلمان صدر بن سکتا ہے پھر یہاں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والا شخص اہم عہدے پر فائز کیوں نہیں ہو سکتا؟

’یہ ملک سب کا ہے، اس لیے اس ملک میں تمام شہریوں کے مساوی حقوق ہیں، میں تمام صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سندھ کی طرح تمام صوبے اقلیتوں کو برابری کے شہری ہونے کے لیے قوانین بنائیں۔‘

’ایسا نہیں ہو سکتا کہ غریب اور امیر کا پاکستان الگ الگ ہوں۔‘

سندھ میں حکومت نے جمعرات کو ہولی کے موقعے پر عام تعطیل کی تھی۔ عمرکوٹ ضلع کی تقریباً نصف آبادی ہندو برادری پر مشتمل ہے۔ عام انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات میں یہاں سے پیپلز پارٹی نے بھرپور کامیابی حاصل کی تھی۔

بلاول بھٹو نے ہندو برادری کو اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔’ایک بھائی کی حیثیت سے وعدہ کرتا ہوں آپ کے حقوق کے لیے لڑتا رہوں گا، میرا ساتھ دیں، دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔‘

بلال بھٹو کا کہنا تھا کہ جب وہ مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں تو خواتین کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں۔ ’اسلام نے عورت کی عزت کرنا سکھایا، پیپلز پارٹی نے ہر حکومتی دور میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور قانون سازی کی، جبکہ دوسری جماعتیں طرح طرح کے ڈرامے کر رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خواتین اسی طرح ان کے ساتھ کھڑی ہو جائیں جس طرح میری بہنیں آصفہ اور بختاور کھڑی ہیں: بلاول بھٹو

انھوں نے کہا: ’پنجاب اسمبلی نے خواتین کے تحفظ کے لیے ایک کمزور قانون منظور کرایا ہے جو حقیقی ایشوز کو حل نہیں کرتا، لیکن میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اب اس کمزور قانون میں بھی ترمیم کے لیے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑ رہے ہیں۔ قانون سازی کھیل نہیں، مذاق بند کر دو۔‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خواتین اسی طرح ان کے ساتھ کھڑی ہو جائیں جس طرح میری بہنیں آصفہ اور بختاور کھڑی ہیں تو وہ نیا پاکستان بنا سکتے ہیں۔ ’جب تک پاکستان کی خواتین آگے نہ آئیں کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔‘

بلاول بھٹو نے شرکا کو آگاہ کیا کہ وہ 26 مارچ سے جنوبی پنجاب کا دورہ کر رہے ہیں، وہ جلد سرائیکی عوام کے درمیان ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس دور میں بھی عمرکوٹ قدرتی گیس کی سہولت سے محروم ہے۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ عمرکوٹ کو گیس فراہم کی جائے کیونکہ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے اس پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔

انھوں نے جلسے کے شرکا کو آگاہ کیا کہ اگر انھیں گیس نہیں فراہم کی گئی تو وہ احتجاج میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔

جلسے کے منتظمین نے بلاول کو راجپوتوں کی مخصوص پگڑی پہنائی۔

اسی بارے میں