’بلوچستان سے انڈین ایجنسی را کا افسر گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے جنوبی علاقے سے بھارتی خفیہ ادارے را کے ایک حاضر سروس افسر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

٭ ’بلوچستان میں دہشت گردی میں بھارتی اور افغان خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے‘

٭ کراچی میں پولیس کا ’را‘ کے چار کارندے گرفتار کرنے کا دعویٰ

٭ ’را کی مداخلت کا معاملہ اقوامِ متحدہ میں اٹھانے پر غور‘

حکام کے مطابق یہ بلوچستان میں جاری شورش میں بھارتی مداخلت کا ثبوت ہے۔ انڈیا کی حکومت کی جانب سے اس خبر پر کوئی فوری ردِ عمل نہیں آیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’را کے ایک حاضر سروس افسر جنوبی بلوچستان سے پکڑے گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ را کے افسر کی گرفتاری سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بلوچستان میں حالات بیرونی مداخلت بالخصوص را کی وجہ سے خراب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ را کے ایجنٹ کے علیحدگی پسندوں سے روابط تھے

’میں روز اول سے کہہ رہا ہوں کہ بلوچستان میں را کام کر رہی ہے تو سب لوگ مجھ سے ثبوت مانگتے تھے۔اب اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ان کا ایک افسر بلوچستان میں بیٹھ کر کام کر رہا ہے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار اہلکار سے تفتیش کی جاری ہے اور جیسے جیسے تفصیلات سامنے آئیں گی وہ میڈیا کو مطلع کرتے رہیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ را کے مبینہ اہلکار کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ را کے ایجنٹ کے علیحدگی پسندوں سے روابط تھے۔ ایک سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس وقت یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کس رینک کے افسر ہیں تاہم ان سے تحقیقات ہو رہی ہے۔

بعض پاکستانی نیوز چینلز نے یہ دعویٰ کیا کہ را کے ایجنٹ کا تعلق بھارتی نیوی سے ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں حالات خراب ہوئے تھے۔ اس وقت بلوچستان کی بلوچ آبادی والے متعدد علاقے شورش سے متاثر ہیں۔

سرکاری حکام بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بعض قوم پرست قوتوں کو ٹھہرا رہے ہیں جو بقول ان کے بیرونی طاقتوں بالخصوص بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایما پر ایسا کر رہے ہیں ۔ تاہم بلوچستان کے بعض بلوچ قوم پرست بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی حکومت اور بلوچستان کے وسائل کو وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں