ایران اور پاکستان کا دو نئی راہداریاں بنانے پر اتفاق

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

دو روزہ سرکاری دورے پر جمعے کواسلام آباد پہنچنے کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

ملاقات میں طے پایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے فروغ کے لیے دو نئی سرحدی راہداریاں بنائی جائیں گی۔

* پاکستان کی ایران سے تجارت میں اضافے کا امکان

ایرانی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے دفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی قیادت بھی کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معیشت کو فروغ دینے پر بات ہوئی۔

بعدازاں صدر حسن روحانی اور وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقعے پر پاکستان کے وزیر اعظم نے بتایا کہ دونوں ملکوں نے توانائی سمیت ہر شعبے میں تعاون پر بات کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سرحدی راہداریوں کے قیام سے تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت میں مدد ملے گی۔

اپنے خطاب میں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’میں اپنے دورے کے نتائج سے مطمئن ہوں۔ پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے۔‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر حسن روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی سرحدیں محفوظ کرنے سے باہمی طور پر فائدہ ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں انھوں نے گوادر اور ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں بہتر رابطے قائم کرنے کے امکانات پر بھی بات کی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل پر بھی بات ہوئی ہے اور علاقائی مسائل بھی زیرِ غور آئے۔

ایران پر اس کے متنازع جوہری پروگرام کے باعث عائد کی جانے والی عالمی ان پابندیوں کے خاتمے سے اقتصادی روابط میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ملکوں کے رہنما خصوصاً ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے

ایران کے صدر کی حیثیت سے حسن روحانی کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے جو وہ وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی شامل ہے جس میں وزرا، اعلیٰ حکام اور تاجر شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق حسن روحانی کے دورے میں پاکستان ایران سے معاہدہ کر کے بجلی کے بحران کے حل میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد بھی اہم موضوع رہے گا۔ یہ پائپ لائن معاہدہ مالی پریشانیوں اور بین الاقوامی خصوصاً امریکی دباؤ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔

امکان ہے کہ پاکستان کے پھلوں اور فصلوں جبکہ ایرانی پٹرولیئم مصنوعات اور پلاسٹک کی درآمد کو بڑھانا بھی ایجنڈے میں شامل رہے گا۔

پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نےرواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ایرانی صدر کے دورے کے دوران ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں