’داڑھی اور نماز روکے جانے کی وجہ بن گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پاکستانی شہریوں کے ساتھ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت برسلز میں دھماکے ہوچکے تھے، شکیل شاہد کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کی وجہ سے ان دکاندروں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے

ماسکو میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے مطابق روس میں محصور ہونے والے تمام 132 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ان افراد کی کل تعداد 136 اور ان میں سے 16 کو واپسی کے سفر میں استنبول روک لیا گیا ہے۔

لاہور سے صحافی ناصر خان نے بتایا ہے کہ ماسکو ایئرپورٹ پر پھنسے پاکستانی تاجروں میں سے بیشتر وطن واپس پہنچ گئے ہیں تاہم ان کے کچھ ساتھی ماسکو کے ہسپتال میں زیرعلاج ہیں اور کچھ استنبول کے ہوائی اڈوں پر پرواز ملنے کے انتظار میں ہیں۔

’ماسکو ایئرپورٹ پر پھنسے 48 پاکستانی واپس پہنچ گئے‘

پاکستان سے موبائل فون کا کاروبار کرنے والے مجموعی طور پر 136 تاجروں کو موبائل فون بنانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی کے سالانہ تقریب میں شرکت کے لئے ماسکو مدعو کیا گیا تھا۔ ماسکو سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کو براستہ استنبول اور دوبئی پاکستان لایا جارہا ہے، جس کی وجہ سے اس وقت بھی راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 16 تاجر استنبول کے ہوائی اڈے پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ماسکو میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 132 پاکستانی وطن واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

وہ یہاں کسی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان کی دستاویزات مکمل نہیں تھیں۔‘

دوسری جانب استنبول میں محصور ایک پاکستانی تاجر محمد رضوان عباسی نے ٹیلی فونک رابطے پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کی حالت ’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘ کی سی ہے ماسکو سے اذیت ناک واپسی کے بعد انھیں استنبول ایئرپورٹ پر ایک نئی اذیت میں مبتلا کردیا گیا ہے۔

رضوان کے مطابق ’ان کے پاسپورٹ ترکش حکام نے اپنے قبضے میں لے لئے ہیں اور انھیں تھوڑی دیر لاونج میں رکھنے کے بعد ان سمیت 16 افراد کو ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹھونس دیا گیا ہے، جہاں لیٹنے کی جگہ بھی پوری نہیں ہے۔‘

رضوان عباسی کے بقول انھیں واش روم جانے کے لیے اجازت لینا پڑتی ہے اور رفع حاجت کے لئے بھی دو سیکیورٹی گارڈز ان کی نگرانی پر مامور کیے جاتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ انھیں کھانے میں صرف ایک سینڈوچ دیا گیا جس میں کچھ پنیر اور ایک ٹماٹر لگا ہوا تھا۔ بھوک اور سردی سے برا حال ہے لیکن کوئی پوچھنے یا بتانے والا نھیں ہے کہ ہمیں کیوں اور کب تک اس حال میں یہاں رکھنا ہے۔‘ رضوان عباسی نے بتایا کہ استنبول میں سخت سردی ہے اور بارش ہورہی ہے لیکن سردی سے بچاو کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔

آٹھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ براستہ دوبئی پہنچنے والے لاہور کی کریم بلاک مارکیٹ کے صدر عبدالمغیث فاروقی نے بتایا کہ ماسکو میں دوران حراست ان کے کچھ ساتھ بیمار ہوگئے تھے جنہیں روسی حکام نے ڈی پورٹ کرنے بجائے اسپتال منتقل کردیا تھا جبکہ ان کے کچھ ساتھی دوبئی ائرپورٹ پر فلائٹس ملنے کے منتظر ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان پاکستانیوں میں سے77 کا تعلق کراچی، 10 لاہور اور 49 اسلام آباد کے رہائشی تھے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے رکن شکیل شاہد کے بھائی عدیل شاہد بھی گذشتہ شب واپس پہنچے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ تمام موبائل فون ڈیلر ہیں اور ایک موبائل کمپنی نے انھیں روس بھیجا تھا۔

شکیل شاہد کے مطابق موبائل کمپنیوں کے دسمبر میں کلوزنگ کے بعد یہ دورے شروع ہوجاتے ہیں، پاکستان کی موبائل کمپنیاں دکانداروں کو اچھا ماحول دینے کے لیے انھیں لیکر جاتی ہیں تاکہ دکاندار دیکھیں کہ دنیا میں کاروبار کیسے ہو رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے اپنے کاروبار میں بہتری لائیں۔

’عدیل جنوری میں ملائیشیا، فروری میں دبئی اور مارچ میں روس گیا تھا ابھی مزید اور دو ٹور ہیں، اسی طرح دو موبائل کمپنیاں عمرے پر لےکر گئیں تھیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ دبئی اور کراچی ایئرپورٹ پر بہت تعاون کیا گیا، وہ سمجھتے ہیں کہ روس میں پاکستان کے قونصل خانے کی بڑی غلطی ہے۔ ان کے مطابق جب تین مہینے دستاویزات کی تیاری پر لگے تھے جس میں این ٹی این نمبر، بینک سٹیٹمنٹ، کراچی چئمبر آف کامرس کا ممبر ہونا، پولیس کلیئرینس سرٹیفیکیٹ سب دیے گئے تھے، جس کے بعد ایک ٹور آپریٹنگ کمپنی انھیں لیکر گئی تھی۔

پاکستانی شہریوں کے ساتھ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت برسلز میں دھماکے ہوچکے تھے، شکیل شاہد کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کی وجہ سے ان دکاندروں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے۔

’اس گروپ میں داڑھی والے لوگ زیادہ تھے امیگریشن پر جب ان سے پاسپورٹ لیے گئے تو اس دوران نماز کا وقت ہوگیا تو وہاں ایک دکاندار نے نماز جماعت کے ساتھ کھڑی کردی، اسی دوران سب سے پہلے انھوں نے میرے بھائی عدیل کو کھڑا کیا اور اس طرح ایک ایک کو لے جاکر سب کو لےکر جاکر لاک اپ کردیا۔‘

شکیل شاہد کے مطابق زبان کا بھی بڑا مسئلہ رہا کیونکہ وہ انگریزی زبان نہیں سمجھ رہے تھے، بقول ان کے اس صورتحال کے بعد ایک دوسری کمپنی نے روس کا ٹور ہی ملتوی کردیا ہے۔

کراچی پہنچنے والے عبدالقادر کے والد داؤد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے پچھلے 48 گھنٹے میں جن حالات کا سامنا کیا ہے اس کے بعد وطن واپسی پر وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس ہی وجہ سے انھیں نیند بھی نہیں آرہی تھی۔ قادر کو خواب اور دوا دے کر سلایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے سفارت خانے نے انھیں ویزہ تو دے دیا تھا لیکن سفارت خانے نے کمپیوٹر آپڈیٹس ماسکو نہیں بھیجی تھیں۔

’ سفارت خانے نے 17 اور 22 تاریخ کو ویزے دے دیے تھے لیکن آپڈیٹس نہ پہنچنے کی وجہ سے روس میں اہلکاروں نے ضد میں آکر مسلم اور غیر مسلم کا مسئلہ بنا کر تخریب کاری کے شبہ کی وجہ سے واپس کردیا۔‘

اسی بارے میں