پارک دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 70 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر نے اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے

پاکستان میں حکام کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک پارک میں خودکش بم دھماکے میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام ہونے والا یہ حملہ بظاہر خودکش دھماکہ تھا جس کی ذمہ داری پاکستان میں طالبان کی ایک تنظیم نے قبول کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ گلشن اقبال نامی پارک کے مرکزی گیٹ کے پاس ہوا جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر بچوں کے جھولے لگے ہوئے ہیں۔

تھانہ اقبال ٹاؤن کے ایس ایچ او کے مطابق انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں اور اب تک 30 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

پیر کو وزیراعظم نواز شریف وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ لاہور پہنچے جہاں انھوں نے جناح ہسپتال میں زیرعلاج زخمیوں کی عیادت کی۔

مقامی صحافی عاصم نصیر کے مطابق محمد نواز شریف نے جناح ہسپتال انتظامیہ سے زخمیوں کو دی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا اور ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ جناح ہسپتال میں سانحہ اقبال پارک کے ایک 150 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں جن میں 26 کی حالت تشویشناک ہے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ اجلاس میں سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اجلاس میں وزیراعظم کو سانحہ گلشن اقبال پارک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

پاکستان کے صدر نے اس دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ جبکہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی صدارت میں سکیورٹی کے حوالے سے الگ الگ اہم اجلاس منعقد ہوئے۔

دھماکے کے بعد شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک شدگان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہاں افراتفری کا عالم تھا اور دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور بچے اپنی والدین سے بچھڑ گئے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں جائے وقوعہ پر موجود ایک شخص نے بتایا کہ وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے کہ ایک بڑا دھماکہ ہوا اور وہ سب زمین پر گر گئے۔

30 سالہ حسن عمران جو کہ وہاں کے مکین ہیں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ چہل قدمی کے لیے پارک میں گئے تھے کہ اس دوران دھماکہ ہوگیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ دھماکے کے بعد لگی آگے کے شعلے بہت بلند تھے اور انھوں نے جسموں کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا۔

بعدازاں فوج کو پارک کا کنٹرول سھنبالنے کے لیے طلب کر لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھماکہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مسیحی برادی اپنا مذہبی تہوار ایسٹر منا رہی تھی

فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق لاہور بم دھماکے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی بھی موجود تھے۔

فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بھائیوں، بہنوں اور بچوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پنجاب وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی طاقت کا مرکز ہے اور یہ ملک کا سب سے امیر صوبہ ہے۔

پاکستانی طالبان کے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار گروپ نے کہا ہے کہ ’ ہم عیسائیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، جو ایسٹر منا رہے تھے۔‘

اسی بارے میں