مظاہرین کا دھرنا جاری، ریڈزون میں فوج تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خفیہ اداروں کی رپوٹ کے مطابق مظاہرین کی تعداد 70 سے 80 ہزار ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈزون میں فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے سزائے موت پانے والے کانسٹیبل ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا جاری ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار نخبت ملک کے مطابق فوج کو انتظامیہ کی جانب سے طلب کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مظاہرین بہت زیادہ مشتعل ہیں انھوں نے نجی ٹی وی چینل سماء کے دفتر پر حملہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس پیچھے نہیں ہٹی تاہم فوج ضرور آگے آ گئی ہے۔

اتوار کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل سابق پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر بڑی تعداد میں افراد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جمع ہوئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مظاہرین راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہوئے۔

تھانہ کوہسار میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بتایا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پولیس کے 20 سے 25 افراد زخمی ہوئے۔ جنھیں پولی کلینک اسلام آباد اور پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل کروایا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او ملک بشیر بھی شامل ہیں۔ لیکن کوئی بھی پولیس اہلکار شدید زخمی نہیں ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال پولیس کو جو احکامات جاری کیے گئے ہیں ان کےمطابق ہمیں اہم تنصیبات کی حفاظت کرنی ہے۔ اور فوج بھی اسی لیے طلب کی گئی ہے کیونکہ لوگ بہت زیادہ مشتعل ہیں۔

’ہمیں وائرلیس کنٹرول سسٹم پر کوئی تفصیلات مہیا نہیں کی جا رہیں نا ہی کوئی ہدایات دی گئی ہیں لیکن افسران ضرور ایک دوسرے سے موبائل فون پر رابطے میں ہیں۔‘

پولیس کے مطابق مظاہرین نے ریڈ زون میں آگ بجھانے والی دو گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیں اور توڑ پھوڑ کی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہرین اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیال رہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ممتاز قادری کے چہلم تک حکومت کو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور توہین رسالت کے مقدمے میں ملزمہ آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔

پریس کلب حملہ

دوسری جانب کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی پریس کلب کے باہر انجمن طلبائے اسلام کے کارکنوں کے نجی چینل جاگ کے گاڑی کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا ہے۔

پولیس کے مطابق ممتاز قادری کی پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے 80 کے قریب مظاہرین نے پریس کلب کا گھیراؤ کیا اور اس دوران پریس کلب کی انتظامیہ کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی۔

اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پریس کلب کا گھیراؤ کرنے والے مظاہرین کی شناخت کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

کراچی پریس کلب انتظامیہ نے جمیعت علمائے اسلام اور اس کی ذیلی تنظیم انجمن طلبائے اسلام کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی اور ان کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں