خیبر ایجنسی میں پولیو کارکن قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قبائلی علاقوں میں پولیو کارکنوں پر متعدد مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں جس میں کئی کارکن مارے گئے ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک پولیو کارکن کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

پولیٹیکل انتظامیہ خیبر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی رات لنڈی کوتل تحصیل کے علاقے شنواری خوگاخیل میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ علاقے کے ایک پولیو کارکن اختر خان اپنے نجی کلینک میں کام کر رہے تھے کہ اس دوران چند مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انھیں ہپستال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق مقامی انتظامیہ نے ایک شخص کو اس حملے کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقتول ایجنسی میں پہلے ہونے والی پولیو مہمات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں کافی عرصہ کے بعد کسی پولیو کارکن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے علاقے میں پولیو کارکنوں پر متعدد مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں جس میں کئی کارکن مارے گئے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں تقریباً دو سال قبل شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں عمومی طورپر تمام فاٹا میں سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری نظر آئی ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے ان قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل ہوئی جہاں پہلے پولیو کارکنوں کو جا کر ان کے گھروں میں بچوں کو ویکسین پلانا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ انکاری والدین کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے۔ تاہم اس مرض کا مکمل طورپر خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ حکومت اور دیگر اداروں کی کوششوں کے باوجود ملک میں وقتاً فوقتاً پولیو کے مریض سامنے آتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں