لاہور میں جماعت الاحرار کا چوتھا بڑا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ حملے میں 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نےگذشتہ دو سالوں میں لاہور میں یہ چوتھا حملہ ہے جس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے نہ تو عوامی مقامات پر حملے کرنے میں کوئی عار محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی اس گروپ کے پاکستان کے بڑے شہروں میں کارروائی کرنے کی صلاحیت میں کوئی خاص کمی آئی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اگست 2014 میں علیحدہ ہونے کے فوراً بعد نومبر میں اپنا پہلا بڑا حملہ لاہور کے ہی قریب واہگہ بارڈر پر کیا تھا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ حملہ بھی پریڈ گرؤانڈ سے 600 میٹر دور عوامی مقام پر ہوا جس سے جانی نقصان کافی زیادہ رہا۔ اس واقعے کی جند اللہ نامی ایک گروپ نے بھی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ وہ اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کریں گے اور انھوں نے یہ حملہ وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کے جواب میں کیا تھا۔

اس کے چند روز بعد اس گروپ نے امن کمیٹی کے اراکین کو مہمند ایجنسی میں نشانہ بنایا جس میں چھ افراد نے جانیں کھوئیں۔

خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم سے نظریاتی طور پر متاثر جماعت الاحرار نے لاہور کو اس سے قبل بھی نشانہ بنایا تھا۔

گذشتہ برس مارچ میں انھوں نے لاہور کے یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں پر حملے کیے جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس گروپ نے ایک مرتبہ پھر لاہور کے گلشن اقبال نامی ایک پارک میں جہاں مسیحی برادری کو جو ایسٹر کا تہوار منانے کے لیے جمع تھی ہدف بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گلشن اقبال پارک میں ہونے والے اس حملے میں تین سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں

فروری 2015 میں جماعت نے لاہور میں قلعہ گجر سنگھ میں پولیس ہیڈکواٹر کے قریب خودکش حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ حکومت کی جانب سے بعض قیدیوں کو پھانسی دیئے جانے کے خلاف کیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستان فوج کی منظم کارروائیوں کے نتیجے میں یہ گروپ بظاہر تو وہاں سے بیدخل ہوا ہے لیکن بڑے عوامی مقامات پر حملوں کا سلسلہ اس نے مسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت کا بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اسے شدید ملال ہوا ہے۔ پہلے اس کے انتقام میں شبقدر میں کچہری کو نشانہ بنایا اور اب لاہور میں ایک پارک کو۔

جماعت الاحرار ان پاکستانی شدت پسند گروپوں میں سے ایک ہے جس نے دولت اسلامیہ کی حمایت میں بیان بھی جاری کیا اور اپنی تنظیم سازی بھی اسی گروپ کو مدنظر رکھ کر گذشتہ برس کی تھی۔

شدت پسندی کے امور کے ماہر عامر رانا کے بقول یہ گروپ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔

’اس گروپ نے باضابطہ طور پر دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن موجودہ وقت میں اس نے القاعدہ برصغیر کے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے۔ اس خطے میں داعش کے کمزور ہونے کا ان گروپس کو فائد ہوا ہے۔‘

دولت اسلامیہ خراسان کو افغانستان کے مشرقی علاقوں میں امریکی اور افغان فورسز کے حملوں کا زبردست سامنا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی اور افغان طالبان گروپوں میں ناراض شدت پسندوں کے ان کی جانب جانے کا سلسلہ رک سا گیا ہے۔

اس گروپ نے گذشتہ برس اپنے امیر مولانا قاسم خراسانی اور ان کے نائب عمر خالد خراسانی کے مستعفی ہونے اور کمانڈر اسد آفریدی کے قائم مقام سربراہ کے مقرر ہونے کی خبر دی تھی، لیکن اس کے بعد تنظیمی امور سے متعلق کیا تبدیلیاں آئی ہیں اس بارے میں تنظیم خاموش ہے۔

اسی بارے میں