’شاید مصلحتیں کارروائی کی راہ میں حائل ہیں‘

Image caption گلشن اقبال پارک کو خودکش حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد تاحال عام لوگوں کےداخلے کے لیے بند رکھا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں گلشن اقبال پارک پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملک بھر سے ایک مرتبہ پھر یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلیے پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔

اتوار کی شام گلشن اقبال پارک لاہور میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی تدفین کا سلسلہ پیر کی صبح ہی سے شروع ہوگیا تھا اور شام گئے تک جاری رہا۔ اس دوران زیادہ مرنے والے افراد کو مختلف علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں واقع قبرستان میں مسیحی برادری کی ایک بڑی تعداد جمع تھی جہاں دھماکے میں مرنے والے افراد کی تدفین کی جارہی تھی۔

اس قبرستان میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پانچ عیسائیوں کو دفن کیا گیا۔ اپنا جوان سالہ بھیتجے کو کھونے والے ایک شخص جاوید منا نے روتے ہوئے کہا کہ ’حکومت سے کوئی یہ تو ضرور پوچھے کہ کیا قربانی دینے کےلیے صرف عیسائی بچے رہ گئے ہیں اور کیا ہم ہر سال یہ قربانی دیتے رہیں گے؟‘

آخری رسومات میں یوحنا آباد کے ایک مقامی پادری جاوید اشنائیز بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور میں گذشتہ سال مارچ میں گرجا گھروں پر ہونے والے دو حملوں کا زخم ابھی تازہ تھا کہ ایک اور تباہ کن حملہ کیا گیا۔ مرنے والوں میں بیشتر عام شہری بتائے جاتے ہیں۔

Image caption پادری جاوید اشنائیز نے کہا کہ لاہور میں گذشتہ سال مارچ میں گرجا گھروں پر ہونے والے دو حملوں کا زخم ابھی تازہ تھا کہ ایک اور تباہ کن حملہ کیا گیا

پنجاب میں ہونے والے حالیہ بڑے بڑے دہشت گردی حملوں سے بظاہر ایسا ثابت ہوگیا ہے کہ اس صوبے میں شدت پسند تنظمیں منظم طریقے سے سرگرم عمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’بظاہر ایسا نظر آرہا کہ دہشت گردوں نے اب پنجاب کو اپنا ہدف بنایا لیا ہے اور اگر ان کا مکمل خاتمہ نہیں کیا گیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔‘

پادری جاوید اشنائیز کا کہنا تھا ’ریاست بہت طاقت ور ہوتی ہے جس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی لہذا حکومت اور تمام ریاستی اداروں کو مل کر دیگر شہروں کی طرح پنجاب میں بھی بھر پور کارروائی کرنی چاہیے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کا ہمیشہ ہمیشہ کےلیے خاتمہ کیا جاسکے۔‘

ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر پنجاب میں واقعی دہشت گردوں کی بڑے بڑے نیٹ ورکس موجود ہیں تو پھر حکومت کی طرف سے ان کے خلاف کارروائی سے گریز کیوں کی جارہی ہے جس کے جواب میں عیسائی برادری کے مذہبی رہنما نے کہا کہ شاید کسی مصلحت کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنجاب میں آپریشنز کی شدید مخالف رہی ہیں۔

صوبائی حکومت کی طرف سے گلشن اقبال حملے کے بعد پنجاب بھر میں تین روز سوگ کے اعلان کیا ہے جس کی وجہ لاہور شہر میں تمام بڑے بڑے تجارتی مراکز اور بازار بند رہے۔ شہر میں عمومی طورپر فضا سوگوار رہی جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاہور میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی دارے بند رہے۔

Image caption پنجاب میں ایک عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ملک بھر سے آوازیں اٹھتی رہی ہے تاہم صوبائی حکومت دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے

ادھر گلشن اقبال پارک کو خودکش حملے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد تاحال عام لوگوں کےداخلے کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے اہلکار پیر کو سارا دن جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرتے رہے۔ تاہم ابھی تک تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

جائے وقوعہ کو کانٹے دار تاروں سے تمام اطراف سے بند کردیا گیا ہے جہاں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ تاہم صرف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو پارک کے احاطے میں ایک خاص مقام تک رسائی دی گئی جبکہ کانٹے دار تار کو پار کرنے اجازت کسی کو نہیں دی گئی۔

پنجاب میں ایک عرصے سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ملک بھر سے آوازیں اٹھتی رہی ہے تاہم صوبائی حکومت دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے۔

اکثر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر پنجاب میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف منظم کارروائیاں پہلے سے کر لی جاتیں تو شاید آج یہ جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔

اسی بارے میں