’فوج کی نگرانی میں حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈزون میں حکومت کے خلاف دھرنا جاری ہے۔ یہ دھرنا سابق گورنر پنجاب کے قتل کے جرم میں پھانسی پانے والے کانسٹیبل ممتاز قادری کے حامیوں کی جانب سے دیا جا رہا ہے۔

اتوار کو ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر بڑی تعداد میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جمع ہوئے اور بعد میں راولپنڈی سے اسلام آباد کی جانب رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوگئے تھے۔

ہماری نامہ نگار عنبر سمشی نے بتایا کہ سنی تحریک نے اپنے مطالبات حکومت کو پیش تو کردیے ہیں جن میں ممتاز قادری کو سرکاری طور پر شہید قرار دیا جانا اور آسیہ بی بی کو فوراً پھانسی دلوانا شامل ہیں۔

سنی تحریک کے رہنماؤں چاہتے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے ہی بات ہو مگر سنی تحریک کے سینیئر رہنما ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فوج کی ضمانت کے بغیر بات نہیں ہو گی۔

’فوج کی نگرانی میں، ان کی گارنٹی کے ساتھ ہم سول حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسلام آباد میں پولیس کی سپشل برانچ کی مطابق مظاہرین کی تعداد 2500 کے قریب ہے اور وہ گذشتہ رات سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

مظاہرین کی قیادت کرنے والوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حکومتی نمائندوں سے ہی بات چیت کریں گے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ زیرحراست مذہبی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔

اتوار کی شب اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے فوج کو طلب کر لیا گیا تھا۔

پولیس کی بھاری نفری اور 600 کے قریب فوجی اہلکار ریڈ زون میں واقع سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

ادھر اسلام آباد میں بیشتر موبائل سروسز معطل ہیں۔

میٹرو بس سروس کے دو بس سٹیشنوں کو نقصان پہنچنے کے بعد بس سروس بھی معطل ہے جبکہ شہر کے بیشتر سکول بھی بند ہیں۔ تاہم ریڈ زون کے علاوہ دیگر علاقوں میں معمولِ زندگی جاری ہیں اور حکومت کی جانب سے صرف ریڈ زون میں جانے والے راستوں پر خصوصی سکیورٹی اور کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس سے قبل تھانہ کوہسار میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے بتایا کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پولیس کے 20 سے 25 افراد زخمی ہوئے۔ جنھیں پولی کلینک اسلام آباد اور پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل کروایا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ زخمیوں میں تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او ملک بشیر بھی شامل ہیں۔ لیکن کوئی بھی پولیس اہلکار شدید زخمی نہیں ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فی الحال پولیس کو جو احکامات جاری کیے گئے ہیں ان کےمطابق ہمیں اہم تنصیبات کی حفاظت کرنی ہے۔ اور فوج بھی اسی لیے طلب کی گئی ہے کیونکہ لوگ بہت زیادہ مشتعل تھے۔

خیال رہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ممتاز قادری کے چہلم تک حکومت کو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور توہین رسالت کے مقدمے میں ملزمہ آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

آسیہ بی بی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔

اسی بارے میں