لاہور حملے کے بعد160 آپریشن، 216 افراد تحویل میں

Image caption جیو ٹیگنگ کے بعد 532 مدارس کی نگرانی کی جا رہی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں اور نہ کوئی نو گو ایریا ہے، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔

آئی جی پنجاب کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے بتایا کہ حکومت کے پاس تمام مدارس کے مکمل کوائف موجود ہیں کہ کس مدرسے میں کون اساتذہ آتے ہیں اور کون سے طالبعلم پڑھتے ہیں۔

٭ ’حکومت کی برداشت کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘

٭ ’شاید مصلحتیں کارروائی کی راہ میں حائل ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ تمام 15 ہزار مدارس کی جیو ٹیگنگ کے بعد 532 مدارس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

جب ان سے گذشتہ روز فوج کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا گیا کہ آئندہ دنوں میں پنجاب میں جاری آپریشنوں کے حوالے سے فوکل پرسن کون ہوگا، آئی ایس پی آر تفصیلات دے گا یا پنجاب حکومت؟ تو اس سوال کے جواب میں وزیرِ قانون نے کہا کہ آپ نے راولپنڈی کے بیان کو غلط سمجھا ہے۔

’اس میں فرق نہیں ہے، یہ راولپنڈی کا بھی اتنا ہی قومی فریضہ ہے اور یہ اسلام آباد کا بھی ہے، لاہور کا بھی ہے کوئٹہ کا بھی اور پشاور کا بھی ہے۔۔۔ یہ کسی فردِ واحد کا، سیاسی جماعت کا ادارے کا یا فردِ واحد کا کام نہیں ہے۔‘

Image caption پارک حملے میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہلاک ہوئیں

انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ پنجاب میں خفیہ پناہ گاہیں ہیں۔

’میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے، کوئی خفیہ پناہ گاہ نہیں ہے، اور اگر جو کوئی دہشت گرد چھپا ہوا ہے تو ان پر خفیہ معلومات کی پولیس، انسدادِ دہشت گردی فورس، رینجرز اور بعض جگہ پر اگر ضرورت ہو تو فوج کی مدد سے بھی آپریشن کیے جاتے رہے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ایسی اطلاع ہے تو وہ ہمیں بتائے۔

وزیرِ قانون کے مطابق لاہور کے گلشنِ اقبال پارک میں حملے کے بعد گذشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں پولیس نے56، محکمۂ انسدادِ دہشت گردی نے 16، اور لوکل پولیس نے خفیہ اداروں کی مدد سے 88 آپریشن کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ 5221 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 5005 کو کوائف کی جانچ کے بعد رہا کیا گیا جبکہ 216 کو مزید تحقیقات کے لیے تحویل میں رکھا گیا ہے۔

’اس وقت پنجاب میں فورتھ شیڈیول میں موجود افراد کی تعداد 1550 ہے، تاہم یہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ twitter

وزیرِ قانون کے مطابق اس سال 24 ’جیٹ بلیک‘ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ آپریشن قومی آپریشن ہے جس میں سیاسی قیادت، حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اور تمام ادارے پوری طرح شامل ہیں۔اس میں پولیس سی ٹی ڈی آئی ایس آئی، مسلح افواج پوری طرح قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہی ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’بعض ایسے عناصر جو ہماری اس مشترکہ اور قومی یکجہتی میں فرق تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انھیں ناکامی کاسامنا کرنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

وزیرِ قانون نے کہا کہ یہ آپریشن ایسے علاقوں میں بھی کیا جائےگا جنھیں کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

’ابتدائی طور پر یہ آپریشن پولیس، سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کرے گی اور اس کے بعد جیسے جیسے ضرورت ہوگی اس میں فوج اور رینجرز کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں